حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَزْرَةَ الشَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَازَ شَهَادَةَ بَدَوِيٍّ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے چاند کی رؤیت پر ایک دیہاتی کی گواہی قبول فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ حَجَمَهُ رَجُلٌ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ، وَشَفَعَ لَهُ إِلَى مَوَالِيهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزے اور احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے، ایک شخص جسے ابوطیبہ کہا جاتا تھا، اس نے پچھنے لگائے، آپ ﷺ نے اسے اس کی مزدوری دی اور اس کے مالکان سے اس کی سفارش فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصريفينيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ النَّضْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ، وَالْكَتَمُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپے کے سفید بالوں کو بدلنے کے لیے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «عِيَادَةُ الْمَرِيضِ مَرَّةً سُنَّةٌ، فَمَا زَادَ فنافلةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”بیمار کی ایک بار عیادت کرنا سنت ہے، اس سے زیادہ نفل ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصَابَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرَ الْأَهْلِيَّةِ، فَطَبَخُوا مِنْ لَحْمِهَا «فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ أَنْ تُكْفَأَ، وَحَرَّمَ لُحُومَهَا يَوْمَئِذٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو پالتو گدھے ملے، انہوں نے ان کا گوشت پکایا، تو رسول اللہ ﷺ نے دیگوں کو الٹانے کا حکم دیا اور اس دن ان کا گوشت حرام قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجذوعيُّ الْقَاضِي، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءَ، فَتَزَلْزَلَ الْجَبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اثْبُتْ يَا حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ» . وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدٌ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ حراء پہاڑ پر تھے کہ پہاڑ کانپنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہر جا، اے حراء! تیرے اوپر تو صرف نبی، صدیق یا شہید ہی ہے۔“ اور اس وقت اس پر رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، سعد اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہم تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ «أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے بعد سترہ دن ٹھہرے، اور دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْعَصْرَ ثَلَاثًا وَنَسِي وَاحِدَةً، فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُسَمَّى ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَقُصَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: صَلَّيْتَ ثَلَاثًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَخَرَجَ إِلَى قَوْمٍ كَانُوا مَعَهُ فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «يَزْعُمُ أَنِّي صَلَّيْتُ ثَلَاثًا» قَالُوا: صَدَقَ، فَظَنَنَّا أَنَّكَ أُمِرْتَ فِي ذَلِكَ بِأَمْرٍ «فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
ترجمہ
…پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے اور اپنی کسی زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے، تو آپ کے پاس ان کے ایک صحابی آئے جنہیں ذوالشمالین کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا بات ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ نے تین رکعت پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان لوگوں کی طرف نکلے جو آپ کے ساتھ تھے، اور فرمایا: ”کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کہتے ہیں کہ میں نے تین رکعت پڑھی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے سچ کہا، ہم نے تو یہی سمجھا کہ آپ کو اس بارے میں کوئی نیا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَضْحَى عَلَيَّ فَرِيضَةٌ، وَعَلَيْكُمْ سُنَّةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی مجھ پر فرض ہے، اور تم پر سنت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالْقٍ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَسَدِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ مَوْقِفًا يُقْتَلُ فِيهِ رَجُلٌ ظُلْمًا، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَ حِينَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ، وَلَا يَقِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَوْقِفًا يُضْرَبُ فِيهِ أَحَدٌ ظُلْمًا، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَهُ حِينَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسی جگہ کھڑا نہ ہو جہاں کسی آدمی کو ظلماً قتل کیا جا رہا ہو، کیونکہ لعنت اس پر نازل ہوتی ہے جو حاضر ہو کر اس کا دفاع نہ کرے، اور تم میں سے کوئی ایسی جگہ بھی کھڑا نہ ہو جہاں کسی کو ظلماً مارا جا رہا ہو، کیونکہ لعنت اس پر بھی نازل ہوتی ہے جو حاضر ہو کر اس کا دفاع نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كديرٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يُسَبِّحُونَ فِي غَدِيرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُسَبِّحْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ إِلَى صَاحِبِهِ» فَسَبَّحَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى صَاحِبِهِ وَبَقِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَسَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ حَتَّى عَانَقَهُ، وَقَالَ: «أَنَا إِلَى صَاحِبِي أَنَا إِلَى صَاحِبِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک تالاب میں تیراکی کر رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی اپنے ساتھی کی طرف تیر کر جائے۔“ چنانچہ ہر آدمی اپنے ساتھی کی طرف تیر کر گیا، اور صرف نبی کریم ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رہ گئے، تو نبی کریم ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف تیر کر گئے یہاں تک کہ انہیں گلے لگا لیا، اور فرمایا: ”میں اپنے ساتھی کی طرف، میں اپنے ساتھی کی طرف۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ فَارْفَعُوا سَبَلَكُمْ، فَكُلُّ شَيْءٍ أَصَابَ الْأَرْضَ مِنْ سَبَلِكُمْ فَهُوَ فِي النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنے تہبند اونچے رکھو، کیونکہ تمہارے تہبند کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا وہ آگ میں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَيْدٌ أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُذَكِّرَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُوصِلَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے زنانہ پن اختیار کرنے والے مردوں، مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں، گودنے والی اور گدوانے والی، اور بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا جُنَيْدُ الْحَجَّامُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ الْحَجَّامُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، اور چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ حَبِيبٍ التَّمَّارُ، عَنْ نِزَارِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا الْقَدرَ فَإِنَّهُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تقدیر (کے بارے میں بحث) سے بچو، کیونکہ یہ عیسائیت کی ایک شاخ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، وَحُمَيْدٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَامَ حَتَّى سُمِعَ غَطِيطُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ کے خراٹوں کی آواز سنائی دی، پھر آپ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا سَهْمَ لَهُمَا مِنَ الْإِسْلَامِ: الْمُرْجِئَةُ، وَالْقَدَرِيَّةُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: مرجئہ اور قدریہ۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں اور زنانہ پن اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَنْظَلَةَ ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِي مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ قَوْمًا وَيَضُرُّ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» . قَالَ: فَكَانَ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے، اس حال میں کہ آپ نے اپنے سر پر ایک میلا سا پٹا باندھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک، سو تم میں سے جو کوئی کسی ایسے معاملے کا والی بنے جس سے کچھ لوگوں کو فائدہ اور کچھ کو نقصان پہنچے تو وہ ان کے نیکو کار سے بھلائی قبول کرے اور ان کے برے کی خطا معاف کر دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: یہ آخری خطبہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَابَهْرامَ الْأَيْذَجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ صَيْفِيُّ بْنُ رِبْعِيِّ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ الْغَسِيلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرَ مُعَذِّبِكِ، وَلَا وَلَدِكِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اللہ عزوجل تمہیں اور تمہاری اولاد کو عذاب نہیں دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَادِعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: «مَا تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: مَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ شَهِيدٌ، قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لَقَلِيلٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْءُ يَمُوتُ عَلَى فِرَاشِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَاللديغُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالشريقُ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَفْتَرِسُهُ السَّبُعُ شَهِيدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا يَجُرُّهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم اپنے میں شہید کسے سمجھتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: جو اللہ کے راستے میں صبر اور ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے: اللہ کے راستے میں قتل ہونے والا شہید ہے، اپنے بستر پر اللہ کے راستے میں مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈسا ہوا شخص شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، دم گھٹنے سے مرنے والا شہید ہے، درندے کا شکار ہونے والا شہید ہے، اپنی سواری سے گر کر مرنے والا شہید ہے، عمارت گرنے سے مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب (پسلی کی بیماری) میں مرنے والا شہید ہے، اور وہ زچہ عورت جسے اس کا بچہ پیدائش کے دوران مار ڈالے، وہ اپنی ناف کی ڈوری سے کھینچی ہوئی جنت میں جائے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عِيسَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا} [البقرة: ١٠٤] إِلَّا عَلِيٌّ أَمِيرُهَا وشَريفُهَا، وَلَقَدْ عَاتَبَ اللهُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ مَكَانٍ، وَمَا ذَكَرَ عَلِيًّا إِلَّا بِخَيْرٍ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اللہ نے کبھی ’اے ایمان والو‘ نازل نہیں فرمایا مگر علی اس کے سردار اور شریف ترین فرد ہوتے، اور اللہ نے محمد ﷺ کے صحابہ کو کئی مقامات پر تنبیہ فرمائی، لیکن علی کا ذکر ہمیشہ بھلائی کے ساتھ ہی کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ النِّسَاءُ لَا يَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَاكَ تَشْتَرِطُ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَتَبَرَّجَ، وَإِنَّ فُلَانَةَ قَدْ أَسْعَدَتْنِي، وَقَدْ مَاتَ أَخُوهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا، ثُمَّ تَعَالَيْ فَبَايِعِيني»
ترجمہ
…میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ ہم پر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ ہم زیب و زینت کا اظہار نہ کریں، حالانکہ فلاں عورت نے میری مدد کی تھی (غم میں شریک ہوئی تھی)، اور اب اس کا بھائی فوت ہو گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اس کے غم میں شریک ہو آؤ، پھر آ کر مجھ سے بیعت کر لو۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَفِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، حَدَّثَنِي الْأَبْيَضُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الظِّهَارُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُ النِّسَاءَ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسَ بْنَ الصَّلْتِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خُوَيْلَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَ الرَّجُلُ ضَعِيفًا، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ جَلِدَةً، فَلَمَّا أَنْ تَكَلَّمَ بِالظَّهَارِ، قَالَ: لَا أُرَاكِ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيَّ، فَانْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكَ تَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّكِ عَلَيَّ، فَانْطَلَقَتْ، وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهَا عِنْدَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وماشطةٌ تَمْشُطُ رَأْسَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فِي ضَعْفِ رَأْيِهِ، وَعَجْزِ مَقْدِرَتِهِ، وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحَقُّ مَنْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ أَنَا أَوْ عَطَفَ عَلِيَّ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ هُوَ، فَقَدْ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ فَابْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّنِي إِلَيْهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: «يَا خُوَيْلَةُ مَا أُمِرْنَا بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِكِ، وَإِنْ نُؤْمَرْ فَسَأُخْبِرُكِ» فَبَيْنَا ماشِطَتُهُ قَدْ فَرَغَتْ مِنْ شَقِّ رَأْسِهِ وَأَخَذَتِ الشِّقَّ الْآخَرَ، أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَرْبَدُّ لِذَلِكَ وَجْهُهُ حَتَّى يَجِدَ بَرْدَهُ، فَإِذَا سُرِّي عَنْهُ، عَادَ وَجْهُهُ أَبْيَضُ كالْقَلْبِ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِمَا أُمِرَ بِهِ، فَقَالَتْ لَهَا ماشِطَتُهُ: يَا خُوَيْلَةُ إِنَّنِي لَأَظُنُّهُ الْآنَ فِي شَأْنِكِ، فَأَخَذَهَا أَفْكَلُ اسْتَقَلَّتْهَا رِعْدَةٌ، ثُمَّ قَالَتْ: اللهُمَّ بِكَ أَعُوذُ أَنْ تُنْزِلَ فِيَّ إِلَّا خَيْرًا، فَإِنِّي لَمْ أبغِ مِنْ رَسُولِكَ إِلَّا خَيْرًا، فَلَمَّا سُرِّي عَنْهُ، قَالَ: " يَا خُوَيْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] إِلَى قَوْلِهِ {ثُمَّ يَعُودُونَ لَمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: ٣] "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا لَهُ خَادِمٌ غَيْرِي وَلَا لِي خَادِمٌ غَيْرُهُ، قَالَ: " {فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ} [النساء: ٩٢] "، فَقَالَتْ: وَاللهِ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يَأْكُلْ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَسْدَرُ بَصَرُهُ، قَالَ: " {فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا} [المجادلة: ٤] " فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا لَنَا فِي الْيَوْمِ إِلَّا وُقِيَّةٌ، قَالَ: «فَمُرِيهِ فَلْيَنْطَلِقْ إِلَى فُلَانٍ وَلْيَأْخُذْ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقِ تَمْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا ولْيُراجِعْكِ» ، قَالَتْ: فَجِئْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: مَا وَرَاءَكِ؟ قَالَتْ: خَيْرٌ، وَأَنْتَ ذميمٌ أُمِرْتَ أَنْ تَأْتِيَ فُلَانًا فَتَأْخُذَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقِ تَمْرٍ فَتَتَصَدَّقَ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا وتُراجِعَني، فَانْطَلَقَ يَسْعَى حَتَّى جَاءَ بِهِ، قَالَتْ: وَعَهْدِي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ خَمْسَةَ آصُعٍ مِنَ الضَّعْفِ
ترجمہ
…اور جس نے مجھ پر احسان کیا ہو اسے بدلہ دینا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں اگر وہ میں ہوں، یا اگر اس کے پاس ہو تو وہ مجھ پر احسان کرے، اے رسول اللہ! اس (میرے شوہر) نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے، سو کوئی ایسا راستہ تلاش کیجیے جس سے وہ مجھ سے لوٹ آئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خویلہ! ہمیں تمہارے معاملے میں ابھی کوئی حکم نہیں دیا گیا، اگر ہمیں حکم دیا گیا تو میں تمہیں بتا دوں گا۔“ ابھی ان کی کنگھی کرنے والی نے ان کے سر کا ایک حصہ بنا کر دوسرا حصہ شروع ہی کیا تھا کہ اللہ عزوجل نے وحی نازل فرمائی، اور جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کا چہرہ مبارک زرد سا پڑ جاتا یہاں تک کہ اس کی سردی محسوس ہوتی، پھر جب کیفیت ختم ہوتی تو آپ کا چہرہ پھر سفید ہو کر دل کی طرح روشن ہو جاتا، پھر آپ اس بات کے مطابق گویا ہوتے جس کا آپ کو حکم دیا جاتا۔ ان کی کنگھی کرنے والی نے ان سے کہا: اے خویلہ! میرا خیال ہے کہ اب یہ وحی تمہارے ہی معاملے میں ہے۔ تو خویلہ پر کپکپی طاری ہو گئی، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتی ہوں کہ تو میرے بارے میں کچھ بھی نازل نہ فرمائے سوائے بھلائی کے، کیونکہ میں نے تیرے رسول سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہا۔ جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خویلہ! اللہ نے تمہارے اور تمہارے ساتھی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے: بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے جھگڑ رہی تھی... سے پھر جو کچھ انہوں نے کہا اس سے رجوع کریں تو ایک غلام آزاد کرنا ہے اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں تک [سورۃ المجادلہ: 1-3]۔“ خویلہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! نہ اس کے پاس میرے سوا کوئی خادم ہے اور نہ میرے پاس اس کے سوا کوئی خادم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں“ [سورۃ النساء: 92]۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اگر وہ دن میں دو بار نہ کھائے تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے“ [سورۃ المجادلہ: 4]۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمارے پاس تو دن بھر کے لیے ایک اوقیہ کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے کہو کہ وہ فلاں کے پاس جائے اور اس سے آدھا وسق کھجوریں لے، پھر انہیں ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دے، اور تم سے رجوع کر لے۔“ خویلہ کہتی ہیں: میں اپنے شوہر کے پاس گئی، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پوچھا: تمہارے پیچھے کیا خبر ہے؟ میں نے کہا: بھلائی ہے، اور تم قابلِ ملامت ہو، تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ فلاں کے پاس جاؤ اور اس سے آدھا وسق کھجوریں لے کر ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرو اور مجھ سے رجوع کر لو۔ چنانچہ وہ دوڑتے ہوئے گئے یہاں تک کہ وہ کھجوریں لے آئے۔ خویلہ کہتی ہیں: اس سے پہلے تو میں جانتی تھی کہ وہ کمزوری کی وجہ سے اپنی پیٹھ پر پانچ صاع بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَحَمِدَ اللهَ وَذَكَرَهُ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ، جَمَعَ اللهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، فَرَّقَ اللهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يُؤْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مسجد خیف میں ہمیں خطبہ دیا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی جیسا اس کا حق ہے، پھر فرمایا: ”جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے تمام معاملات یکجا کر دیتا ہے، اس کی بے نیازی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور دنیا خود چل کر اس کے پاس آتی ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے۔ اور جس کی فکر دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے دنیا میں سے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ فَلَيْسَ مِنَّا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غسل کے بعد وضو کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، أَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الشَّاةِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَعَسْبِ الْفَحْلِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے جلالہ بکری (نجاست کھانے والی) کی بیع سے، کتے کی قیمت سے، سانڈ کی مینڈھی کی اجرت سے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ الْقُرَشِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الشِّبَعِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْجُوعِ فِي الْآخِرَةِ غَدًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میں خوب سیر ہو کر کھانے والے، کل آخرت میں بھوکے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْحُزْنِ فَإِنَّهُ مِفْتَاحُ الْقَلْبِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الْحُزْنُ؟ قَالَ: «أَجِيعُوا أَنْفُسَكُمْ بِالْجُوعِ وأَظْمِئُوها»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حزن (رنج و غم) کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ دل کی کنجی ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حزن کیسے حاصل ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ کو بھوکا اور پیاسا رکھو۔“
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَضْطَرِبُ فَقَامَ يَدْعُو اللهَ لَهُ أَنْ يُعافِيَهُ فَقِيلَ لَهُ يَا مُوسَى إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي يُصِيبُهُ حَظٌّ مِنْ إِبْلِيسَ، وَلَكِنَّهُ جَوَّعَ نَفْسَهُ لِي فَهُوَ الَّذِي يَرَى أَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّاتٍ أَتَعَجَّبُ مِنْ طَاعَتِهِ لِي فَمُرْهُ فَلْيَدْعُو لَكَ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدِي كُلَّ يَوْمٍ دَعْوَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو کپکپا رہا تھا، تو وہ اس کے لیے دعا کرنے کھڑے ہو گئے کہ اللہ اسے عافیت دے، تو کہا گیا: اے موسیٰ! اسے جو ہو رہا ہے وہ ابلیس کی طرف سے نہیں، بلکہ اس نے میری خاطر خود کو بھوکا رکھا ہے، اور یہ وہ شخص ہے جسے میں ہر دن کئی بار دیکھتا ہوں اور اس کی اطاعت پر تعجب کرتا ہوں، سو اسے کہو کہ تمہارے لیے دعا کرے، کیونکہ اس کے لیے میرے ہاں ہر دن ایک قبول ہونے والی دعا ہے۔“
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْخَطَ اللهَ فِي رِضَا النَّاسِ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِ، وأَسْخَطَ عَلَيْهِ مَنْ أرضاهُ فِي سَخَطِهِ، وَمَنْ أَرْضَى اللهَ فِي سَخَطِ النَّاسِ رَضِي اللهُ عَنْهُ وَأَرْضَى عَنْهُ مَنْ أَسْخَطَهُ فِي رِضَاهُ حَتَّى يُزَيِّنَهُ وَيُزَيِّنَ قَوْلَهُ وَعَمَلَهُ فِي عَيْنِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کی رضا کی خاطر اللہ کو ناراض کرے، اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے، اور جس نے اسے اس کی ناراضی میں راضی کیا تھا اسے بھی اس پر ناراض کر دیتا ہے۔ اور جو لوگوں کی ناراضی مول لے کر اللہ کو راضی کرے، اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے، اور جو اس کی رضا میں اس پر ناراض ہوا تھا اسے بھی اس پر راضی کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے، اس کی بات کو اور اس کے عمل کو ان کی نظروں میں خوبصورت بنا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: «مَا كَانَ مُحَمَّدٌ قَائِلًا لِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟» فَقَسَمَهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ، ثُمَّ قَالَ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِثْلَ هَذَا الْجَبَلِ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُحُدٍ «ذَهَبًا وَفِضَّةً فَيُنْفِقُها فِي سَبِيلِ اللهِ وَيَتْرُكَ مِنْهَا دِينَارًا»
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ، وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيُطْعِمُ مِنْهُ عِيَالَهُ»
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ، وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيُطْعِمُ مِنْهُ عِيَالَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا، آپ ﷺ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”محمد اپنے رب سے کیا کہتا اگر وہ مر جاتا اور یہ اس کے پاس ہوتا؟“ چنانچہ اٹھنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے اسے تقسیم کر دیا، پھر فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ محمد کے صحابہ کے پاس اس پہاڑ کے برابر“ - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے احد کی طرف اشارہ کیا - ”سونا چاندی ہو، وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کریں اور اس میں سے ایک دینار بھی باقی چھوڑیں۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ جس دن وصال فرمایا، آپ نے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ کوئی غلام، نہ کوئی باندی، اور آپ نے اپنی زرہ ایک یہودی شخص کے پاس تیس صاع جَو کے عوض گروی رکھی ہوئی چھوڑی تھی، جس میں سے آپ خود بھی کھاتے تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کھلاتے تھے۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ جس دن وصال فرمایا، آپ نے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ کوئی غلام، نہ کوئی باندی، اور آپ نے اپنی زرہ ایک یہودی شخص کے پاس تیس صاع جَو کے عوض گروی رکھی ہوئی چھوڑی تھی، جس میں سے آپ خود بھی کھاتے تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کھلاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ كَعْبٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي، وَهِيَ حَائِضٌ «فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی بیوی سے جماع کر لیا جبکہ وہ حیض کی حالت میں تھی۔ آپ ﷺ نے اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، إِنَّمَا كُرِهَ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: روزہ دار کے لیے پچھنے لگوانے میں کوئی حرج نہیں، اسے صرف کمزوری کے اندیشے سے ناپسند کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثنا أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي} [الحجر: ٨٧] قَالَ: «هِيَ أُمُّ الْكِتَابِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور بے شک ہم نے تمہیں سات بار بار دہرائی جانے والی آیات عطا کیں“ [سورۃ الحجر: 87]، فرمایا: ”یہ ام الکتاب (سورۃ فاتحہ) ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُنَاصَحُوا فِي الْعِلْمِ، فَإِنَّ خِيَانَةَ أَحَدِكُمْ فِي عَلِمِهِ أَشَدُّ مِنْ خيانَتِهِ فِي مَالِهِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَائِلُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”علم میں ایک دوسرے کی خیرخواہی کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کی اپنے علم میں خیانت اس کی مال میں خیانت سے زیادہ سنگین ہے، اور اللہ عزوجل قیامت کے دن تم سے اس بارے میں ضرور پوچھے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الثَّعْلَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُهْلَكُ الْقَرْيَةُ فِيهِمِ الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَقِيلَ: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «بِتَهاوُنِهِمْ وسُكُوتِهِمْ عَنْ مَعَاصِي اللهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا کسی بستی کو ہلاک کیا جائے گا جبکہ اس میں نیک لوگ بھی موجود ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عرض کیا گیا: کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی سستی اور اللہ کی نافرمانیوں پر خاموشی کے سبب۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرِدَاؤُهُ تَحْتَ رَأْسِهِ جَاءَ رَجُلٌ، فَسَلَّ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقْطَعْ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ رِدَائِي يُقْطَعُ فِيهِ يَدُ مُسْلِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو اس نے کہا: میرا خیال نہ تھا کہ میری چادر کی وجہ سے کسی مسلمان کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات تم نے مجھے اسے لانے سے پہلے کیوں نہ کہی؟“
…