حدیث نمبر: 11640
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَحَمِدَ اللهَ وَذَكَرَهُ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ، جَمَعَ اللهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، فَرَّقَ اللهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يُؤْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مسجد خیف میں ہمیں خطبہ دیا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی جیسا اس کا حق ہے، پھر فرمایا: ”جس کی فکر آخرت ہو، اللہ اس کے تمام معاملات یکجا کر دیتا ہے، اس کی بے نیازی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور دنیا خود چل کر اس کے پاس آتی ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے۔ اور جس کی فکر دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے دنیا میں سے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے لیے لکھا جا چکا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11640
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 266، حدیث 11690