حدیث نمبر: 11623
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْعَصْرَ ثَلَاثًا وَنَسِي وَاحِدَةً، فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُسَمَّى ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَقُصَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: صَلَّيْتَ ثَلَاثًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَخَرَجَ إِلَى قَوْمٍ كَانُوا مَعَهُ فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «يَزْعُمُ أَنِّي صَلَّيْتُ ثَلَاثًا» قَالُوا: صَدَقَ، فَظَنَنَّا أَنَّكَ أُمِرْتَ فِي ذَلِكَ بِأَمْرٍ «فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
ترجمہ

…پھر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے اور اپنی کسی زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے، تو آپ کے پاس ان کے ایک صحابی آئے جنہیں ذوالشمالین کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا بات ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ نے تین رکعت پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان لوگوں کی طرف نکلے جو آپ کے ساتھ تھے، اور فرمایا: ”کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کہتے ہیں کہ میں نے تین رکعت پڑھی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے سچ کہا، ہم نے تو یہی سمجھا کہ آپ کو اس بارے میں کوئی نیا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11623
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 259، حدیث 11673