المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا جبرونُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: «مَا كَانَ مُحَمَّدٌ قَائِلًا لِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟» فَقَسَمَهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ، ثُمَّ قَالَ: «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِثْلَ هَذَا الْجَبَلِ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُحُدٍ «ذَهَبًا وَفِضَّةً فَيُنْفِقُها فِي سَبِيلِ اللهِ وَيَتْرُكَ مِنْهَا دِينَارًا»
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ، وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيُطْعِمُ مِنْهُ عِيَالَهُ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا، آپ ﷺ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”محمد اپنے رب سے کیا کہتا اگر وہ مر جاتا اور یہ اس کے پاس ہوتا؟“ چنانچہ اٹھنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے اسے تقسیم کر دیا، پھر فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ محمد کے صحابہ کے پاس اس پہاڑ کے برابر“ - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے احد کی طرف اشارہ کیا - ”سونا چاندی ہو، وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کریں اور اس میں سے ایک دینار بھی باقی چھوڑیں۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ جس دن وصال فرمایا، آپ نے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ کوئی غلام، نہ کوئی باندی، اور آپ نے اپنی زرہ ایک یہودی شخص کے پاس تیس صاع جَو کے عوض گروی رکھی ہوئی چھوڑی تھی، جس میں سے آپ خود بھی کھاتے تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کھلاتے تھے۔“