حدیث نمبر: 11634
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَنْظَلَةَ ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ، فَمَنْ وَلِي مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ قَوْمًا وَيَضُرُّ آخَرِينَ، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ» . قَالَ: فَكَانَ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے، اس حال میں کہ آپ نے اپنے سر پر ایک میلا سا پٹا باندھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک، سو تم میں سے جو کوئی کسی ایسے معاملے کا والی بنے جس سے کچھ لوگوں کو فائدہ اور کچھ کو نقصان پہنچے تو وہ ان کے نیکو کار سے بھلائی قبول کرے اور ان کے برے کی خطا معاف کر دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: یہ آخری خطبہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات تک دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11634
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 263، حدیث 11684