المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَادِعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: «مَا تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: مَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ شَهِيدٌ، قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لَقَلِيلٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْءُ يَمُوتُ عَلَى فِرَاشِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَاللديغُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَالشريقُ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَفْتَرِسُهُ السَّبُعُ شَهِيدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا يَجُرُّهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ "سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم اپنے میں شہید کسے سمجھتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: جو اللہ کے راستے میں صبر اور ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے: اللہ کے راستے میں قتل ہونے والا شہید ہے، اپنے بستر پر اللہ کے راستے میں مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈسا ہوا شخص شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، دم گھٹنے سے مرنے والا شہید ہے، درندے کا شکار ہونے والا شہید ہے، اپنی سواری سے گر کر مرنے والا شہید ہے، عمارت گرنے سے مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب (پسلی کی بیماری) میں مرنے والا شہید ہے، اور وہ زچہ عورت جسے اس کا بچہ پیدائش کے دوران مار ڈالے، وہ اپنی ناف کی ڈوری سے کھینچی ہوئی جنت میں جائے گی۔“