کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8724
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 151، حدیث 8756
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، وَمَنْ أَرَادَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَضُرُّوا بِالْفَانِي لِلْبَاقِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو آخرت چاہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، اور جو دنیا چاہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے“، اور انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ فانی چیز کو باقی رہنے والی چیز کے لیے نقصان میں ڈالیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 151، حدیث 8757
حَدَّثَنَا الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ بِشِرَافَ فَنَزَلَ بِنَا عَبْدُ اللهِ فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ أَهْلِي بِأَشْيَاءَ، وَجَاءَ غِلْمَةٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعٍ بِطَيْرٍ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَنِي: «مِنْ أَيْنَ جِئْتَنِي بِهَذَا الطَّيْرِ؟» قَالَ: قُلْتُ: جَاءَ بِهِ غِلْمَانٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ صِيدَ لَا أُكَلِّمُ بِشَيْءٍ بَشَرًا، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللهِ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: میں شراف نامی مقام میں تھا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے، تو میرے گھر والوں نے مجھے کچھ چیزیں دے کر ان کی طرف بھیجا، اور ہمارے غلام جو اونٹوں کے ساتھ چار دن کی مسافت پر تھے، ایک پرندہ لے کر آئے، تو میں اسے لے کر ان کے پاس گیا، جب میں اسے لے کر ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”یہ پرندہ تم میرے پاس کہاں سے لائے ہو؟“ میں نے کہا: ہمارے غلام جو اونٹوں کے ساتھ چار راتوں کی مسافت پر تھے، اسے لے کر آئے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش کہ میں اسی جگہ رہ جاتا جہاں یہ شکار کیا گیا، نہ کسی انسان سے کوئی بات کرتا اور نہ وہ مجھ سے کوئی بات کرتا، یہاں تک کہ میں اللہ سے جا ملتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8726
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 151، حدیث 8758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا مِنْ نَفْسٍ حَيَّةٍ إِلَّا الْمَوْتُ خَيْرٌ لَهَا إِنْ كَانَ بِرًّا، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ} [آل عمران: ١٩٨] وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا} [آل عمران: ١٧٨] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر جاندار کے لیے موت ہی بہتر ہے، اگر وہ نیک ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لیے بہتر ہے“ [آل عمران: 198]، اور اگر وہ بدکار ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اور کافر یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ ہم انہیں جو مہلت دیتے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے، ہم تو انہیں اسی لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں“ [آل عمران: 178]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8727
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 151، حدیث 8759
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا فَمَنْ عَلِمَ فَلْيَعْمَلْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے لوگو! علم سیکھو، تو جو علم حاصل کر لے وہ اس پر عمل بھی کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8728
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «يَجِيءُ قَوْمٌ يَشْرَبُونَ الْعِلْمَ شُرْبًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایسے لوگ آئیں گے جو علم کو خوب پی جائیں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8729
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: زَعَمَ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «يَوْمًا وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ» فَقَالَ: «يَا حَارُّ بْنُ قَيْسٍ - لِلْحَارِثِ - مَا تُرَاهُمْ يُرِيدُونَ إِلَى مَا يَسْأَلُونَ عَنْهُ؟» قَالَ: لِيَعْلَمُوهُ ثُمَّ يَتْرُكُوهُ، قَالَ: «صَدَقْتَ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن لوگوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ سوالات کیے، تو انہوں نے حارث بن قیس سے فرمایا: ”اے حارث بن قیس! تمہارا کیا خیال ہے، یہ لوگ جو سوال پوچھ رہے ہیں اس سے کیا چاہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: تاکہ اسے جان لیں پھر چھوڑ دیں۔ فرمایا: ”تم نے سچ کہا، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8730
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ جِيفَةَ لَيْلٍ قُطْرُبَ نَهَارٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ رات کو نیند کی وجہ سے مردے کی طرح پڑا رہے اور دن کو دنیا کی دوڑ دھوپ میں بھاگتا پھرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8731
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا يُقَلِّدَنَّ أَحَدُكُمْ دِينَهُ رَجُلًا، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، وَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ مُقْتَدِينَ فَاقْتَدُوا بِالْمَيِّتِ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا يُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی اپنا دین کسی آدمی کی تقلید میں نہ رکھے کہ اگر وہ ایمان لائے تو یہ بھی ایمان لائے اور اگر وہ کفر کرے تو یہ بھی کفر کرے، اور اگر تمہیں کسی کی پیروی کرنی ہی ہو تو فوت شدگان کی پیروی کرو، کیونکہ زندہ آدمی پر فتنے میں پڑ جانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8732
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8764
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا يَكُونُ أَحَدُكُمْ إِمَّعَةً» ، قَالُوا: وَمَا الْإِمَّعَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: يَقُولُ: «إِنَّمَا أَنَا مَعَ النَّاسِ إِنِ اهْتَدَوُا اهْتَدَيْتُ، وَإِنْ ضَلُّوا ضَلَلْتُ، أَلَا لَيُوَطِّنُ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ عَلَى إِنْ كَفَرَ النَّاسُ أَنْ لَا يَكْفُرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی 'امّعہ' نہ بنے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمٰن! امّعہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ شخص جو کہے: میں تو بس لوگوں کے ساتھ ہوں، اگر وہ ہدایت پر ہوں تو میں بھی ہدایت پر ہوں گا اور اگر وہ گمراہ ہو جائیں تو میں بھی گمراہ ہو جاؤں گا۔ خبردار! تم میں سے ہر ایک اپنے نفس کو اس بات پر مضبوط کرے کہ اگر لوگ کفر کریں تو وہ کفر نہ کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8733
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 152، حدیث 8765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ نُسَمِّي الْإِمَّعَةَ الَّذِي يَأْتِي الطَّعَامَ، وَلَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِمَّعَةَ فِيكُمُ الْمُحْقِبُ دِينَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم زمانۂ جاہلیت میں 'امّعہ' اس شخص کو کہتے تھے جو دعوت کے بغیر ہی کھانے پر چلا جائے۔ خبردار! تم میں 'امّعہ' وہ ہے جو اپنا دین دوسروں کے پیچھے لاد لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8734
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 153، حدیث 8766
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كُنَّا نُسَمِّي الْإِمَّعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الرَّجُلُ يُدْعَى إِلَى الطَّعَامِ فَيَتْبَعُهُ الرَّجُلُ، وَهُوَ الْيَوْمَ الَّذِي يَحْقِبُ النَّاسَ دِينَهُ، وَكُنَّا نُسَمِّي الْعَضَهَ السِّحْرَ وَهُوَ الْيَوْمَ قِيلَ، وَقَالَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم زمانۂ جاہلیت میں 'امّعہ' اس شخص کو کہتے تھے جسے کھانے پر بلایا جائے اور دوسرا آدمی بھی اس کے پیچھے چلا جائے، اور آج کے دور میں یہ وہ شخص ہے جو لوگوں کے پیچھے اپنا دین لادے پھرتا ہے۔ اور ہم 'عضہ' جادو کو کہا کرتے تھے، اور آج کے دور میں یہ فضول قیل و قال ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8735
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 153، حدیث 8767
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «أَنْتُمْ أَكْثَرُ صَلَاةً، وَأَكْثَرُ جِهَادًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ» ، قَالُوا: بِمَ ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: «إِنَّهُمْ كَانُوا أَزْهَدَ فِي الدُّنْيَا، وَأَرْغَبَ فِي الْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم نماز اور جہاد میں محمد ﷺ کے صحابہ سے زیادہ ہو، جبکہ وہ تم سے بہتر تھے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ کیسے؟ فرمایا: ”وہ دنیا سے زیادہ بے رغبت اور آخرت کے زیادہ خواہاں تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8736
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 153، حدیث 8768
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَ حَدِيثِ زَائِدَةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی زائدہ کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8737
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 153، حدیث 8769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «اتَّبِعُوا، وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پیروی کرو اور بدعت ایجاد نہ کرو، تمہیں دین میں کفایت کر دی گئی ہے، ہر بدعت گمراہی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8738
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8770
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا نَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالْجَنَّةُ مِنْ وَرَائِهَا يَرَوْنَ كَوَاعِبَهَا، وَأَكْوَابَهَا، وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللهِ بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لِيَفِيضُ عَرَقًا حَتَّى يَسِيحَ فِي الْأَرْضِ قَامَتَهُ، ثُمَّ يَرْتَفِعُ حَتَّى يَبْلُغَ أَنْفَهُ، وَمَا مَسَّهُ الْحِسَابُ» ، قَالُوا: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: «مِمَّا يَرَى النَّاسَ يَلْقَوْنَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن ساری زمین آگ ہو گی، اور جنت اس کے پیچھے ہو گی، لوگ اس کی نوجوان حوروں اور اس کے پیالوں کو دیکھیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے، آدمی پسینے میں اس طرح ڈوب جائے گا کہ زمین میں اس کے قد برابر پسینہ بہہ جائے گا، پھر وہ اٹھ کر اس کی ناک تک پہنچ جائے گا، حالانکہ ابھی حساب نے اسے چھوا بھی نہیں ہو گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یہ کیوں ہو گا؟ فرمایا: ”اس وجہ سے کہ وہ دیکھے گا لوگ قیامت کے دن کن مصیبتوں سے دوچار ہو رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8739
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8771
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يُحْسِنُ عَبْدُ اللهِ الظَّنَّ إِلَّا أَعْطَاهُ ظَنَّهُ، وَذَلِكَ بَانَ الْخَيْرُ فِي يَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو بندہ بھی اللہ سے اچھا گمان رکھے تو اللہ اسے اس کا گمان عطا فرما دیتا ہے، کیونکہ ساری بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8740
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ لِامْرَأَتِهِ: «الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ أَمْسِ؟» فَقَالَتْ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ: «لَكِنِّي أَدْرِي، أَمْسِ خَيْرٌ مِنَ الْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ خَيْرٌ مِنْ غَدٍ، وَكَذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا: ”آج بہتر ہے یا کل؟“ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ فرمایا: ”لیکن مجھے معلوم ہے، کل آج سے بہتر تھا، اور آج کل سے بہتر ہے، اور اسی طرح قیامت تک ہوتا رہے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8741
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8773
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللهِ يَوْمًا، وَهُوَ خَائِرٌ، فَقُلْنَا: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: «ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكَدَرُ، فَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں: ایک دن سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس نکلے، اس حال میں کہ وہ افسردہ تھے، تو ہم نے پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ فرمایا: ”دنیا کی صفائی جا چکی، اب صرف کدورت باقی رہ گئی ہے، تو آج کے دور میں موت ہر مسلمان کے لیے تحفہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8742
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8774
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكَدَرُ، فَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دنیا کی صفائی جا چکی، اب صرف کدورت باقی رہ گئی ہے، تو آج کے دور میں موت ہر مسلمان کے لیے تحفہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8743
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8775
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ ثَغَبٍ» قُلْنَا: وَمَا الثَّغَبُ؟ قَالَ: «الْغَدِيرُ ذَهَبَ صَفْوُهُ، وَبَقِي كَدَرُهُ، فَالْمَوْتُ تُحْفَةٌ كُلِّ مُؤْمِنٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دنیا کی مثال ثَغَب کی طرح ہے۔“ ہم نے پوچھا: ثَغَب کیا ہے؟ فرمایا: ”ایک تالاب جس کی صفائی جا چکی ہو اور صرف کدورت باقی رہ گئی ہو، تو موت ہر مومن کے لیے تحفہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8744
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ النَّخَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «يَوَدُّ أَهْلُ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعَايِنُونَ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ تُقْرَضُ بِالْمَقَارِيضِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگ اجر دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں سے کترنے کے قابل ہوتیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8745
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «وَدَّ أَهْلُ الْبَلَاءِ حِينَ يُعَايِنُوا الثَّوَابَ أَنَّ أَجْسَادَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مصیبت زدہ لوگ جب اجر دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش ان کے جسم قینچیوں سے کترے گئے ہوتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8746
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ لَيُلْجَمُ بِعَرَقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ طُولِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، حَتَّى يَقُولَ: رَبِّ أَرِحْنِي، وَلَوْ إِلَى النَّارِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کافر اس دن کی طوالت کی وجہ سے قیامت کے دن اپنے ہی پسینے میں لگام تک ڈوب جائے گا، یہاں تک کہ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے آرام دے، خواہ دوزخ ہی میں پہنچا کر سہی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8747
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8779
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَنْجَحَ»
ترجمہ
ابوعبیدہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اللہ سے مانگنا چاہے تو پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرے جیسا کہ وہ اس کا مستحق ہے، پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے، پھر اس کے بعد سوال کرے، کیونکہ اس طرح اس کی دعا قبول ہونے کا زیادہ امکان ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8748
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 155، حدیث 8780
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ رَدَفَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لَهُ: تَغَنَّ فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ قَالَ لَهُ: تَمَنَّ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب آدمی سواری پر بیٹھے اور اللہ کا نام نہ لے تو شیطان اس کے پیچھے سوار ہو جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے: گانا گاؤ، اور اگر اسے گانا نہ آتا ہو تو کہتا ہے: دل میں آرزوئیں کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8749
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 156، حدیث 8781
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّ شَّيْطَانَ الْمُؤْمِنِ يَلْقَى شَيْطَانَ الْكَافِرِ فَيَرَى شَيْطَانَ الْمُؤْمِنِ شَاحِبًا أَغْبَرَ مَهْزُولًا، فَيَقُولُ شَيْطَانُ الْكَافِرِ: مَا لَكَ؟ وَيْحَكَ، قَدْ هَلَكْتَ، فَيَقُولُ شَيْطَانُ الْمُؤْمِنِ: لَا وَاللهِ مَا أَصِلُ مَعَهُ إِلَى شَيْءٍ، إِذَا طَعِمَ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ، وَإِذَا شَرِبَ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ، وَإِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ، فَيَقُولُ الْآخَرُ: لَكِنِّي آكُلُ مِنْ طَعَامِهِ، وَأَشْرَبُ مِنْ شَرَابِهِ، وَأَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ، فَهَذَا سَاحٌّ، وَهَذَا مَهْزُولٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مومن کا شیطان کافر کے شیطان سے ملتا ہے تو مومن کا شیطان زرد رنگت والا، غبار آلود اور لاغر نظر آتا ہے۔ کافر کا شیطان کہتا ہے: تمہیں کیا ہوا؟ افسوس تم پر! تم تو تباہ ہو گئے۔ مومن کا شیطان کہتا ہے: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کے ساتھ کسی چیز تک نہیں پہنچ پاتا، جب وہ کھاتا ہے تو اللہ کا نام لیتا ہے، جب پیتا ہے تو اللہ کا نام لیتا ہے، اور جب اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کا نام لیتا ہے۔ دوسرا کہتا ہے: لیکن میں تو اس کے کھانے میں سے کھاتا ہوں، اس کے پینے میں سے پیتا ہوں، اور اس کے بستر پر سوتا ہوں، چنانچہ کافر کا شیطان موٹا تازہ ہے اور مومن کا شیطان لاغر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8750
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 156، حدیث 8782
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " الْكَبَائِرُ: الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا، اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا، اور اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو جانا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8751
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 156، حدیث 8783
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو جانا، اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا، اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8752
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 156، حدیث 8784
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ، وَالْأَمْنُ لِمَكْرِ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا، اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا، اور اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو جانا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8753
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 156، حدیث 8785
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَاهُ ابْنٌ لَهُ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ مِنْ حَرِيرٍ، وَالْغُلَامُ مُعْجَبٌ بِقَمِيصِهِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ عَبْدِ اللهِ خَرَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَقُلْ لَهَا فَلْتُلْبِسْكَ قَمِيصًا غَيْرَ هَذَا»
ترجمہ
… ان کا ایک بیٹا ان کے پاس آیا، اس نے ریشمی قمیص پہن رکھی تھی اور وہ لڑکا اپنی قمیص پر خوش تھا، جب وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچا تو انہوں نے اسے پھاڑ دیا، پھر فرمایا: ”اپنی ماں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی قمیص پہنائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8754
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، أَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ عَلَيْهِ قَمِيصٌ حَرِيرٌ، فَقَالَ: «مَنْ كَسَاكَ هَذَا؟» قَالَ: أُمِّي، قَالَ: فَشَقَّهُ، قَالَ: «قُلْ لِأُمِّكَ تَكْسُوكَ غَيْرَ هَذَا»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کا ایک بیٹا ریشمی قمیص پہنے ہوئے آیا، تو انہوں نے پوچھا: ”یہ تمہیں کس نے پہنائی ہے؟“ اس نے کہا: میری ماں نے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اسے پھاڑ دیا، اور فرمایا: ”اپنی ماں سے کہو کہ وہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی قمیص پہنائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8755
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8787
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَنْ يَجِدَ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَيَعْلَمَ أَنَّهُ مَيِّتٌ، وَأَنَّهُ مَبْعُوثٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدمی ایمان کا ذائقہ ہرگز نہیں پائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے، اور یہ نہ جان لے کہ وہ مرے گا اور دوبارہ اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8756
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8788
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَبُلُّ طَرَفَ إِصْبَعِهِ فِي فِيهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «وَاللهِ لَا يَطْعَمُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَيَعْلَمَ أَنَّهُ مَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ»
ترجمہ
حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی انگلی کا سرا اپنے منہ میں تر کرتے، پھر فرماتے: ”اللہ کی قسم! بندہ ایمان کا ذائقہ ہرگز نہیں چکھے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے، اور یہ نہ جان لے کہ وہ مرے گا پھر موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8757
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8789
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَجِدُ لَهُنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: تَرْكُ الْمِرَاءِ فِي الْحَقِّ، وَالْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تین چیزیں جس میں ہوں وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس پائے گا: حق بات میں جھگڑنا چھوڑ دینا، مذاق میں جھوٹ بولنا چھوڑ دینا، اور یہ جان لینا کہ جو کچھ اسے پہنچا وہ اس سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو کچھ اس سے چوک گیا وہ اسے پہنچنے والا نہ تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8758
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8790
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِي سَفَرٍ فَلَقِيَ رَكْبًا، فَقُلْنَا: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " فَهَلْ قَالُوا: نَحْنُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ "
ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں: ہم سفر میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ایک قافلے سے ملاقات ہوئی، ہم نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم مومن ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم جنتی ہیں؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8759
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 157، حدیث 8791
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ: إِنِّي مُؤْمِنٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «قُلْ إِنِّي فِي الْجَنَّةِ، لَكِنَّا آمَنَّا بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ، وَرُسُلِهِ»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا: میں مومن ہوں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم یہ بھی کہہ دو کہ میں جنتی ہوں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں: ہم اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8760
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 158، حدیث 8792
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ جَالِسًا بَعْدَ الصُّبْحِ فِي حَلْقَةٍ، فَقَالَ: «أَنْشُدُ اللهَ قَاطَعَ رَحِمٍ لَمَا قَامَ عَنَّا، فَإِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَدْعُوَ رَبَّنَا، وَأَبْوَابُ السَّمَاءِ مُرْتَجَةٌ دُونَ قَاطَعِ رَحِمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کے بعد ایک حلقے میں بیٹھے تھے، تو فرمایا: ”میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو شخص قطع رحمی کرنے والا ہو وہ ہمارے پاس سے اٹھ جائے، کیونکہ ہم اپنے رب سے دعا کرنا چاہتے ہیں، اور آسمان کے دروازے قطع رحمی کرنے والے کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8761
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 158، حدیث 8793
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا أَذْنَبَ أَصْبَحَ عَلَى بَابِهِ مَكْتُوبٌ أَذْنَبْتَ كَذَا، وَكَذَا، وَكَفَّارَتُهُ كَذَا مِنَ الْعَمَلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَتَكَاثَرَ أَنْ يَعْلَمَهُ» ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَانَا ذَلِكَ مَكَانَ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ١١٠] "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بنی اسرائیل کا آدمی جب گناہ کرتا تو صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا پاتا: تم نے یہ یہ گناہ کیا، اور اس کا کفارہ یہ یہ عمل ہے“، شاید یہ بات اسے دیکھنے میں تکلیف دیتی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ اللہ عزوجل ہمیں یہ طریقہ دے، اس آیت کی بجائے: ”اور جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، مہربان پائے گا“ [سورۃ النساء: 110]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8762
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 158، حدیث 8794
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، " أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَجُلٍ، وَهُوَ سَاجِدٌ فَوَطِئَ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَقَالَ: أَتَطَأُ عَلَى رَقَبَتِي وَأَنَا سَاجِدٌ؟ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ أَبَدًا، فَقَالَ اللهُ: أَتَتَأَلَّى عَلَيَّ، أَمَا إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص کسی دوسرے شخص کے پاس سے گزرا جو سجدے میں تھا، تو اس نے اس کی گردن پر پاؤں رکھ دیا، تو اس نے کہا: کیا تم میری گردن پر پاؤں رکھتے ہو جبکہ میں سجدے میں ہوں؟ اللہ کی قسم! اللہ تمہیں کبھی نہیں بخشے گا۔ تو اللہ نے فرمایا: کیا تم مجھ پر قسم کھاتے ہو؟ سن لو! میں نے اسے بخش دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8763
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 158، حدیث 8795