حدیث نمبر: 8739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا نَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالْجَنَّةُ مِنْ وَرَائِهَا يَرَوْنَ كَوَاعِبَهَا، وَأَكْوَابَهَا، وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللهِ بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لِيَفِيضُ عَرَقًا حَتَّى يَسِيحَ فِي الْأَرْضِ قَامَتَهُ، ثُمَّ يَرْتَفِعُ حَتَّى يَبْلُغَ أَنْفَهُ، وَمَا مَسَّهُ الْحِسَابُ» ، قَالُوا: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: «مِمَّا يَرَى النَّاسَ يَلْقَوْنَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قیامت کے دن ساری زمین آگ ہو گی، اور جنت اس کے پیچھے ہو گی، لوگ اس کی نوجوان حوروں اور اس کے پیالوں کو دیکھیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبداللہ کی جان ہے، آدمی پسینے میں اس طرح ڈوب جائے گا کہ زمین میں اس کے قد برابر پسینہ بہہ جائے گا، پھر وہ اٹھ کر اس کی ناک تک پہنچ جائے گا، حالانکہ ابھی حساب نے اسے چھوا بھی نہیں ہو گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یہ کیوں ہو گا؟ فرمایا: ”اس وجہ سے کہ وہ دیکھے گا لوگ قیامت کے دن کن مصیبتوں سے دوچار ہو رہے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8739
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 154، حدیث 8771