المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ بِشِرَافَ فَنَزَلَ بِنَا عَبْدُ اللهِ فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ أَهْلِي بِأَشْيَاءَ، وَجَاءَ غِلْمَةٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعٍ بِطَيْرٍ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَنِي: «مِنْ أَيْنَ جِئْتَنِي بِهَذَا الطَّيْرِ؟» قَالَ: قُلْتُ: جَاءَ بِهِ غِلْمَانٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ صِيدَ لَا أُكَلِّمُ بِشَيْءٍ بَشَرًا، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللهِ»راوی بیان کرتے ہیں: میں شراف نامی مقام میں تھا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے، تو میرے گھر والوں نے مجھے کچھ چیزیں دے کر ان کی طرف بھیجا، اور ہمارے غلام جو اونٹوں کے ساتھ چار دن کی مسافت پر تھے، ایک پرندہ لے کر آئے، تو میں اسے لے کر ان کے پاس گیا، جب میں اسے لے کر ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”یہ پرندہ تم میرے پاس کہاں سے لائے ہو؟“ میں نے کہا: ہمارے غلام جو اونٹوں کے ساتھ چار راتوں کی مسافت پر تھے، اسے لے کر آئے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش کہ میں اسی جگہ رہ جاتا جہاں یہ شکار کیا گیا، نہ کسی انسان سے کوئی بات کرتا اور نہ وہ مجھ سے کوئی بات کرتا، یہاں تک کہ میں اللہ سے جا ملتا۔“