کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
عَنْ بُرَيْدَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْبِ - قَالَ : أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أُبْغِضْهُ أَحَدًا قَطُّ قَالَ : وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ قَالَ : فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى جَيْشٍ ، فَصَحِبْتُهُ مَا صَحِبْتُهُ إِلَّا بِبُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : فَأَصَبْنَا سَبَايَا فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ . قَالَ : فَبَعَثَ [ إِلَيْنَا ] عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ السَّبْيِ قَالَ : فَخَمَّسَ وَقَسَّمَ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَّمْتُ وَخَمَّسْتُ ، فَصَارَتْ فِي الْخُمْسِ ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ فَوَقَعْتُ بِهَا . قَالَ : فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : ابْعَثْنِي مُصَدِّقًا قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ ، وَأَقُولُ : صَدَقَ قَالَ : فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ ، وَقَالَ : " أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَلَا تُبْغِضُهُ ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمْسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ " . قَالَ : فَمَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ بُرَيْدَةَ - : فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَبِي بُرَيْدَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اتنا ناپسند کرتا تھا کہ اتنا کسی اور کو ناپسند نہیں کرتا تھا اور میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے محبت رکھتا تھا ، میں اس سے صرف اس وجہ سے محبت رکھتا تھا ، کیونکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، میں بھی اس شخص کے ساتھ رہا اور جتنا عرصہ اس کے ساتھ رہا ، وہ شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض ہی رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں کچھ قیدی ملے تو اس امیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ آپ ہماری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس میں سے خمس وصول کر لے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف بھیجا ، قیدیوں میں ایک کنیز تھی جو ان قیدیوں میں سب سے بہتر تھی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس الگ کیا اور مال کو تقسیم کر دیا ، ایک دن وہ باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوالحسن اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے قیدیوں میں موجود اس کنیز کو نہیں دیکھا تھا ، جب میں نے تقسیم کیا اور خمس الگ کیا ، تو وہ کنیز خمس میں آ گئی ، پھر وہ کنیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے حصے میں آ گئی اور پھر وہ آل علی کے حصے میں آ گئی ، تو میں نے اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لی ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، تو میں نے عرض کی : آپ مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجیں ، راوی کہتے ہیں : میں خط پڑھ رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ٹھیک کہا: ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اور وہ خط پکڑ لیا اور دریافت کیا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے تھے ، تو اس سے زیادہ محبت رکھو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، خمس میں آل علی کا حصہ اس کنیز سے کہیں زیادہ ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد کوئی بھی میرے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں رہا ۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس روایت میں میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے ، اور وہ میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالجلیل بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالجلیل بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ : " إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ ، وَإِنِ افْتَرَقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ " . قَالَ : فَلَقِينَا بَنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَاقْتَتَلْنَا ، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ ، وَسَبَيْنَا الذُّرِّيَّةَ ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ لِنَفْسِهِ . قَالَ بُرَيْدَةُ : فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعْتُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ ، بَعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ ؛ فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دو مہمات کو بھیجا ، ان میں سے ایک کے امیر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری کے امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایک دوسرے سے ملو ، تو علی سب لوگوں کا امیر ہو گا ، اور جب تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ تو تم میں سے ہر ایک اپنے لشکر کا امیر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہماری ملاقات اہل یمن سے تعلق رکھنے والے بنو زید سے ہوئی ، ہم نے لڑائی کی ، مسلمان مشرکین پر غالب آ گئے ، ہم نے جنگجو افراد کو قتل کر دیا اور بال بچوں کو قیدی بنا لیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیدیوں میں سے ایک کنیز اپنے لئے منتخب کر لی ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ خط آپ کے حوالے کیا ، اور وہ خط آپ کے سامنے پڑھا گیا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ پناہ مانگنے والے کا مقام ہے ، آپ نے مجھے ایک شخص کے ساتھ بھیجا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کی اطاعت کروں ، تو میں نے ایسا کیا ، جس حکم کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم علی پر تنقید نہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اور وہ میرے بعد تمہارا ولی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْجَبَلِ، فَقَالَ : " إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ " . فَالْتَقَوْا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ مَا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ ، وَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَدَعَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بُرَيْدَةَ ، فَقَالَ : اغْتَنِمْهَا فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا صَنَعَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنْزِلِهِ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى بَابِهِ فَقَالُوا : مَا الْخَبَرُ يَا بُرَيْدَةَ ؟ فَقُلْتُ : خَيْرًا ، فَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ . فَقَالُوا : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قُلْتُ : جَارِيَةٌ أَخَذَهَا عَلِيٌّ مِنَ الْخُمْسِ ، فَجِئْتُ لِأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ يَسْقُطُ مِنْ عَيْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ الْكَلَامَ فَخَرَجَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْتَقِصُونَ عَلِيًّا ؟ مَنْ تَنَقَّصَ عَلِيًّا فَقَدْ تَنَقَّصَنِي ، وَمَنْ فَارَقَ عَلِيًّا فَقَدْ فَارَقَنِي ؛ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، خُلِقَ مِنْ طِينَتِي ، وَخُلِقْتُ مِنْ طِينَةِ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَنَا أَفْضَلُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ذَرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ . يَا بُرَيْدَةُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ لِعَلِيٍّ أَكْثَرَ مِنَ الْجَارِيَةِ الَّتِي أَخَذَ ، وَأَنَّهُ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِالصُّحْبَةِ إِلَّا بَسَطْتَ يَدَكَ فَبَايَعَتْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ جَدِيدًا . قَالَ : فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى بَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَحُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ، آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہاڑ کا امیر بنا کر بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں اکٹھے ہو گئے ، تو علی لوگوں کا امیر ہو گا ، وہ لوگ اکٹھے ہوئے ، انہیں مال غنیمت حاصل ہوا ، اس طرح کا مال غنیمت انہیں پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے ایک کنیز لے لی ، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم اس موقع کو غنیمت سمجھو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتاؤ ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب آپ کے دروازے پر موجود تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : کیا خبر ہے ؟ میں نے کہا: بھلائی کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی ہے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : پھر تم کیوں آ گئے ہو ؟ میں نے کہا: ایک کنیز کی وجہ سے آیا ہوں ، جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے وصول کر لیا ہے ، اور میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے آیا ہوں ، لوگوں نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دینا کیونکہ اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کم ہو جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات چیت سن رہے تھے ، آپ غصے کے عالم میں باہر تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے کہ وہ علی کی تنقیص کرنا چاہتے ہیں ، جو شخص علی کی تنقیص کرتا ہے وہ میری تنقیص کرتا ہے ، اور جو شخص علی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ اسے میری طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور مجھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں اور یہ سب ایک دوسرے کی ذریت ہیں ، اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے ۔ اسے بریدہ ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ علی کا حصہ اس کنیز سے زیادہ ہے ، جو اس نے لی ہے ، اور وہ میرے بعد تم لوگوں کا ولی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! صحبت کا واسطہ ہے آپ اپنا دست مبارک آگے کیجئے ، تاکہ میں نئے سرے سے اسلام کی بیعت کروں ، راوی کہتے ہیں : تو میں اس وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا جب تک میں نے دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی حسین اشقر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی حسین اشقر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ ، وَجَمَعَهُمَا فَقَالَ : " إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَعَلَيْكُمْ عَلِيٌّ " . قَالَ : فَأَخَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ ، وَأَبْعَدَ وَأَصَابَ سَبْيًا ، وَأَخَذَ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ . قَالَ بُرَيْدَةُ : وَكُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بُغْضًا لِعَلِيٍّ قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ ! ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، ثُمَّ تَتَابَعَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى ذَلِكَ ، فَدَعَانِي خَالِدٌ ، فَقَالَ : يَا بُرَيْدَةُ ، قَدْ عَرَفْتَ الَّذِي صَنَعَ ، فَانْطَلِقْ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ الْكِتَابَ بِشِمَالِهِ وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَقْرَأُ وَلَا يَكْتُبُ ، إِذَا تَكَلَّمْتُ طَأْطَأْتُ رَأْسِي حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِي ، فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي فَتَكَلَّمْتُ ، فَوَقَعْتُ فِي عَلِيٍّ حَتَّى فَرَغْتُ ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَ مِثْلَهُ إِلَّا يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ ، أَحِبَّ عَلِيًّا فَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ " . فَقُمْتُ وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بریدہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الگ الگ لشکروں کا امیر بنا کر بھیجا اور پھر ان دونوں کو اکٹھا ہونے کے حوالے سے یہ فرمایا کہ جب تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ تو علی تم لوگوں کا امیر ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں حضرات نے دائیں اور بائیں حصے کے لشکر کو لیا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس علاقے میں داخل ہوئے اور دور تک گئے ، وہاں انہیں قیدی ملے ، انہوں نے قیدیوں میں سے ایک کنیز کو حاصل کر لیا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شدید بغض رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک کنیز لے لی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہوا ؟ پھر ایک اور شخص آیا ، پھر ایک اور شخص آیا ، پھر لگاتار اس بارے میں اطلاعات آنے لگیں ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور فرمایا : اے بریدہ ! تمہیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ، تم میرا یہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، میں وہ مکتوب لے کے گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اس مکتوب کو لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : نہ آپ نے باقاعدہ پڑھنا سیکھا تھا اور نہ لکھنا سیکھا تھا ، میری یہ عادت تھی کہ جب میں بات کرتا تھا تو بات پوری ہونے تک اپنے سر کو جھکا کے رکھتا تھا ، تو میں نے اپنے سر کو جھکا لیا ، اور بات چیت شروع کی ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، یہاں تک کہ میں اس سے فارغ ہوا ، پھر میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے کے عالم میں ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے غصے کے عالم میں کبھی نہیں دیکھا تھا ، البتہ جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے موقع پر ایسا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے بریدہ ! علی سے محبت رکھو کیونکہ اس نے وہی کیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ( یا جس کی اسے اجازت دی گئی ) راوی کہتے ہیں : تو میں اٹھا تو اس وقت میرے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ضعیف راوی بھی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ضعیف راوی بھی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا خَطِيبًا ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَشْكُوا عَلِيًّا ؛ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! علی کی شکایت نہ کرو ، اللہ کی قسم ! وہ اللہ کی ذات کے بارے میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى الْيَمَنِ ، فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ ، حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى سَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّ لِي عَيْنَيْهِ - يَقُولُ : حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ - حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ : " يَا عَمْرُو ، وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي " . قُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " بَلَى ، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ أَخْصَرَ مِنْهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل رکھتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن جانے کے لئے روانہ ہوا ، سفر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ زیادتی کی ، مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے من میں الجھن محسوس ہوئی ، جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شکایت کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سن لیا ، اگلے دن میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ نے مجھ پر نگاہیں مذکور رکھیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف تیز نظروں سے دیکھا ، جب میں بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ کی قسم ! تم نے مجھے اذیت دی ہے ، میں نے عرض کی : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کو اذیت دوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَخَرَجَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ : عَمْرُو بْنُ شَاسٍ الْأَسْلَمِيُّ ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَذُمُّ عَلِيًّا وَيَشْكُوهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اخْسَأْ يَا عَمْرُو ، هَلْ رَأَيْتَ مِنْ عَلِيٍّ جَوْرًا فِي حُكْمِهِ أَوْ أَثَرَةً فِي قَسْمِهِ ؟ " . قَالَ : اللَّهُمَّ لَا . قَالَ : " فَعَلَامَ تَقُولُ الَّذِي بَلَغَنِي ؟ " . قَالَ : بُغْضَهُ ، لَا أَمْلِكُ . قَالَ :فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ ، وَمَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِجَالٌ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ، ان کے ساتھ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی روانہ ہوا ، جس کا نام عمرو بن شاس اسلمی تھا ، جب وہ شخص واپس آیا تو وہ شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مذمت کر رہا تھا اور ان کی شکایت کر رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیج کر بلایا اور فرمایا : اے عمرو ! تم پرے ہو جاؤ ! کیا تم نے علی کو فیصلہ دیتے ہوئے کوئی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا ہے یا تقسیم کرتے ہوئے کوئی ترجیحی سلوک کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس شخص نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی نہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم کس بنیاد پر وہ باتیں کہہ رہے ہو جو مجھ تک پہنچی ہیں ، اس شخص نے کہا: ان سے بغض رکھنے کی وجہ سے ، جس کا میں مالک نہیں ہوں ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ غصے کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر محسوس ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ، اور جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھتا ہے ، اور جو شخص اس سے محبت رکھتا ہے ، وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے ، اور جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ أَنَا وَرَجُلَيْنِ مَعِي ، فَنِلْنَا مِنْ عَلِيٍّ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضْبَانَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، فَتَعَوَّذْتُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِهِ ، فَقَالَ : " مَا لَكَمَ وَمَا لِي ؟ مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ وَقَنَانٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، میں تھا اور میرے ساتھ دو افراد تھے ، ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے لگے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تشریف لائے ، آپ غصے کے عالم میں تھے اور آپ کے چہرے سے غصے کا اظہار ہو رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا میرے ساتھ کیا واسطہ ہے ، جس نے علی کو اذیت دی ، اس نے مجھے اذیت دی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمود بن خداش اور قنان کا معاملہ مختلف ہے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمود بن خداش اور قنان کا معاملہ مختلف ہے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُ أَتَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تَعْرِضُونَ عَلَيَّ سَبَّ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ ، فَهَلْ سَبَبْتَهُ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ سَعْدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي عَلِيٍّ شَيْئًا لَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِي مَا سَبَبْتُهُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ لوگ کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے اور انہیں برا بھلا کہا: ، تو کیا آپ نے انہیں برا بھلا کہا: ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں سعد کی جان ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر میری مانگ پر آری رکھ دی جائے ، تو بھی میں کبھی بھی انہیں برا نہیں کہوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي : أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : مَعَاذَ اللَّهِ ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا: جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سبحان اللہ ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے علی کو برا کہا: ، تحقیق اس نے مجھے برا کہا: ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جدلی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جدلی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ : قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : أَنَّى يُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : أَلَيْسَ يُسَبُّ عَلِيٌّ وَمَنْ يُحِبُّهُ ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : سید ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا: جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کو کیسے برا کہا: جا سکتا ہے ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور ان سے محبت رکھنے والوں کو برا نہیں کہا: جاتا ؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت رکھتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے اس کے بعد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تک ثقہ رجال کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا ؛ فَإِنَّهُ مَمْسُوسٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ أَوْ بَشِيرٍ مُتَأَخِّرٌ لَيْسَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” علی کو برا نہ کہو ! کیونکہ وہ اللہ کی ذات کے بارے میں خود سے بے پرواہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن بشر یا شاید بشیر ہے ، جو متاخر ہے ، یہ وہ نہیں ہے ، جس نے ابوعبدالرحمن حبلی سے روایات نقل کی ہیں ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن بشر یا شاید بشیر ہے ، جو متاخر ہے ، یہ وہ نہیں ہے ، جس نے ابوعبدالرحمن حبلی سے روایات نقل کی ہیں ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : لَقَدْ سَبَّ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ عَلِيًّا سَبًّا قَبِيحًا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : مُعَاوِيَةُ [ يَعْنِي ] : بْنَ حُدَيْجٍ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ . قَالَ [ نَعَمْ ؛ قَالَ ] : إِذَا رَأَيْتَهُ فَائْتِنِي بِهِ . قَالَ : فَرَآهُ عِنْدَ دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ قَالَ : أَنْتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ ؟ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : أَنْتَ السَّابُّ عَلِيًّا عِنْدَ ابْنِ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ ؟ أَمَا لَئِنْ وَرَدْتَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ - وَمَا أُرَاكَ تَرِدُهُ - لَتَجِدَنَّهُ مُشَمِّرًا حَاسِرًا عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، يَذُودُ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ كَمَا تُذَادُ غَرِيبَةُ الْإِبِلِ عَنْ صَاحِبِهَا ] قَوْلُ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
ابوکثیر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برے طریقے سے برا کہا: گیا ، ایک شخص نے برا کہا: تھا ، جس کا نام معاویہ بن حدیج تھا ، وہ اس سے واقف نہیں تھے ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم اس شخص کو دیکھو تو اسے میرے پاس لے کے آنا ، جب اس شخص نے ان صاحب کو عمرو بن حریث کے گھر کے پاس دیکھا ، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو وہ صاحب دکھائے ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم معاویہ بن حدیج ہو ؟ وہ خاموش رہے ۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کلیجے کھانے والی عورت کے بیٹے کے پاس برا کہہ رہے تھے ، کیا ایسا نہیں ہو گا کہ تم حوض پر ان کے پاس آؤ گے ، ویسے تمہارے بارے میں میری یہ رائے نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ گے ، تو تم ان کو پاؤ گے کہ انہوں نے کلائیاں چڑھائی ہوئی ہوں گی اور کافروں اور منافقین کو اللہ کے رسول کے حوض سے پیچھے کر رہے ہوں گے ، جس طرح اجنبی اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے ، اور یہ بات صادق و مصدوق سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا فرمان ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - قَالَ : حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَحَجَّ مَعَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ - وَكَانَ مِنْ أَسَبِّ النَّاسِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - فَمَرَّ فِي الْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ جَالِسٌ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْآخَرُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں علی بن ابوطلحہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، جو بنوامیہ کا غلام تھا ، وہ بیان کرتا ہے : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کے لئے گئے ۔ ان کے ساتھ معاویہ بن حدیج بھی حج کے لئے گئے تھے ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو برا کہا: کرتے تھے ۔ ان کا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے ہوا ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تحقیق وہ شخص رسوا ہو گیا جس نے جھوٹا الزام لگایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نُجَيٍّ : أَنَّ عَلِيًّا أُتِيَ يَوْمَ الْبَصِيرِ بِذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، فَقَالَ : ابْيَضِّي وَاصْفَرِّي وَغُرِّي غَيْرِي غُرِّي أَهْلَ الشَّامِ غَدًا إِذَا ظَهَرُوا عَلَيْكِ ، فَشَقَّ قَوْلُهُ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنَّكَ سَتَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ وَشِيعَتُكَ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ ، وَيَقْدَمُ عَلَيْكَ عَدُوُّكَ غِضَابًا مُقْمَحِينَ " . ثُمَّ جَمَعَ عَلِيٌّ يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ يُرِيهِمُ الْإِقْمَاحَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابونجیح بیان کرتے ہیں : ” بصیر “ کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سونا اور چاندی لائے گئے تو انہوں نے فرمایا : یہ چاندی اور یہ سونا ، تم میرے علاوہ کسی اور کو غلط فہمی کا شکار کرو ! کل کو جب اہل شام تم پر غالب آ جائیں گے تو تم انہیں دھوکہ دینا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات لوگوں کو گراں گزری ، انہوں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کروایا ، لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” اے علی ! بے شک تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گے کہ تم اور تمہارے ساتھی راضی ہوں گے ، اور ان سے راضی ہوا گیا ہو گا ، اور پھر تمہارا دشمن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ وہ غصے میں ہوں گے ، اور سر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ “ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ گردن کی طرف لے جا کے ان لوگوں کو دکھایا کہ ایسے اُن کے سر اٹھے ہوئے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " مَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ حَرْبِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّحَّانِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْلَى ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” بے شک جس نے علی سے محبت رکھی ، اس نے مجھ سے محبت رکھی ، اور جس نے مجھ سے محبت رکھی ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص اس سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا ، اور جو مجھ سے بغض رکھے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی یحییٰ بن یعلیٰ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی یحییٰ بن یعلیٰ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
وَبِسَنَدِهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَلِيًّا مَبْعَثًا ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَجِبْرِيلُ عَنْكَ رَاضُونَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجا ، جب وہ واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اللہ اور اس کا رسول اور جبرائیل ، تم سے راضی ہیں ۔ “
وَبِسَنَدِهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ وَشِيعَتُكَ تَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ رُوَاةً مَرْوِيِّينَ ، مُبْيَضَّةٌ وُجُوهُكُمْ ، وَإِنَّ عَدُوَّكَ يَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ظِمَاءً مُقْمَحِينَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم اور تمہارے ساتھی حوض پر میرے پاس ایسی حالت میں آئیں گے کہ تم لوگ سیر ہو جاؤ گے ، اور تمہارے چہرے روشن ہوں گے ، اور تمہارا دشمن حوض پر میرے پاس ایسی حالت میں آئے گا کہ وہ پیاسے ہوں گے ، اور ان کے سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے ہوں گے ۔ “
وَبِسَنَدِهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنَّكَ أَخِي وَأَنَا أَخُوكَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ۔ “
وَبِسَنَدِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ أَرْبَعَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : أَنَا ، وَأَنْتَ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَذَرَارِينَا خَلْفَ ظُهُورِنَا ، وَأَزْوَاجُنَا خَلْفَ ذَرَارِينَا ، وَشِيعَتُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہونے والے پہلے چار افراد میں ایک ہوں ، میں ہوؤں گا ، تم ہو گے ، حسن ہو گا ، حسین ہو گا اور ہماری اولاد ہماری پشت کے پیچھے ہو گی اور ہماری بیویاں ہماری اولاد کے پیچھے ہوں گی اور ہمارے ساتھی ہمارے دائیں طرف اور بائیں طرف ہوں گے ۔ “
وَبِسَنَدِهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ فِيكَ طَوَائِفُ مِنْ أُمَّتِي بِمَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَقُلْتُ فِيكَ الْيَوْمَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذَ التُّرَابَ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيْكَ يَطْلُبُ بِهِ الْبَرَكَةَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ تمہارے بارے میں میری امت کے مختلف گروہ وہ بات کریں گے جو عیسائی سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کہتے تھے ، تو میں نے تمہارے بارے میں ایک بات کہنی تھی کہ مسلمانوں میں جو بھی شخص گزرتا ، وہ تمہارے قدموں کے نیچے سے مٹی لے لیتا اور اس کے ذریعے برکت حاصل کرتا ۔ “
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، انْطَلِقْ فَادْعُ لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ " . - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ " . فَلَمَّا جَاءَ ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْأَنْصَارِ فَأَتَوْهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " هَذَا عَلِيٌّ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي ، وَأَكْرِمُوهُ بِكَرَامَتِي ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصِّينِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انس ! جاؤ عربوں کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ عربوں کے سردار نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی ، عربوں کا سردار ہے ۔ “ جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھیجا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں کہ جب تم اسے مضبوطی سے تھام لو گے ، تو اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ علی ہے ، تم میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اس سے محبت رکھو اور میری عزت کی وجہ سے اس کی عزت افزائی کرو ، کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہ کہا: ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں یہ بات بتا دوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَلْمَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " مُحِبُّكَ مُحِبِّي ، وَمُبْغِضُكَ مُبْغِضِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ الطَّوِيلُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم سے محبت رکھنے والا مجھ سے محبت رکھنے والا ہو گا ، اور تم سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک طویل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک طویل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَقَ فِيكَ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ فِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومریم ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے علی ! اس شخص کے لئے مبارک باد ہے جو تم سے محبت رکھے اور تمہارے بارے میں سچ کہے اور اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو تم سے بغض رکھے اور تمہارے بارے میں جھوٹ کہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - زَيَّنَكَ بِزِينَةٍ لَمْ يُزَيِّنِ الْعِبَادَ بِزِينَةٍ مِثْلِهَا ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَّبَ إِلَيْكَ الْمَسَاكِينَ وَالدُّنُوَّ مِنْهُمْ ، وَجَعَلَكَ لَهُمْ إِمَامًا تَرْضَى بِهِمْ ، وَجَعَلَهُمْ لَكَ أَتْبَاعًا يَرْضَوْنَ بِكَ ، فَطُوبَى لِمَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَّقَ عَلَيْكَ ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ عَلَيْكَ . فَأَمَّا مَنْ أَحَبَّكَ وَصَدَّقَ عَلَيْكَ فَهُمْ جِيرَانُكَ فِي دَارِكَ ، وَرُفَقَاؤُكَ فِي جَنَّتِكَ ، وَأَمَّا مَنْ أَبْغَضَكَ وَكَذَبَ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُوقِفَهُمْ مَوَاقِفَ الْكَذَّابِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسی زینت کے ذریعے آراستہ کیا ہے کہ اس نے اس جیسی زینت کے ذریعے اپنے بندوں کو آراستہ نہیں کیا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نزدیک مسکینوں کو محبوب کر دیا ہے ، اور ان کے قریب رہنا محبوب کر دیا ہے ، اس نے تمہیں ان لوگوں کے لئے امام بنایا ہے ، تم ان سے راضی ہو اور اس نے ان لوگوں کو تمہارا پیروکار بنایا ہے ، اور وہ تم سے راضی ہیں ، تو اس شخص کے لئے مبارک باد ہے ، جو تم سے محبت رکھتا ہے ، اور تمہارے بارے میں سچ بولتا ہے ، اور اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو تم سے بغض رکھتا ہے ، اور تمہارے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو تم سے محبت رکھتا ہے اور تمہارے بارے میں سچ بولتا ہے ، تو ایسے لوگ تمہاری جگہ پر تمہارے پڑوسی ہوں گے ، اور جنت میں تمہارے ساتھی ہوں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو تم سے بغض رکھتے ہیں ، اور جو تمہارے خلاف جھوٹ بولتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ انہیں جھوٹے لوگوں کے مقام پر ٹھہرائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَلِيًّا فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں یہ گواہی دیتی ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص علی سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو مجھ سے محبت رکھے گا ، وہ اللہ سے محبت رکھے گا ، اور جو علی سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، اور جو مجھ سے بغض رکھے گا ، وہ اللہ سے بغض رکھے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَاهَى بِكُمْ ، وَغَفَرَ لَكُمْ عَامَّةً وَلِعَلِيٍّ خَاصَّةً ، وَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ غَيْرَ مُحَابٍ لِقَرَابَتِي ، هَذَا جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي أَنَّ السَّعِيدَ حَقَّ السَّعِيدِ مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ ، وَأَنَّ الشَّقِيَّ كُلَّ الشَّقِيِّ مَنْ أَبْغَضَ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عرفہ کی شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فخر کا اظہار کیا اور تم لوگوں کی عمومی طور پر اور علی کی بطور خاص مغفرت کر دی ہے ، میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں اپنے رشتے داروں کے لئے امتیازی سلوک کرنے والا نہیں ہوں ، یہ جبرائیل مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ شخص حقیقی طور پر سعادت مند ہے ، جو علی کے ساتھ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی محبت رکھے ، اور وہ شخص مکمل طور پر بدنصیب ہے ، جو اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی علی سے بغض رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ . بِأَسَانِيدَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اپنے درمیان منافقین کو اس بات کے حوالے سے پہچان لیتے تھے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہم انصار کے لوگ منافقین کو اس حوالے سے پہچان لیتے تھے “ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ہم انصار کے لوگ منافقین کو اس حوالے سے پہچان لیتے تھے “ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكُ إِلَّا مُنَافِقٌ ، مَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَحَبِيبِي حَبِيبُ اللَّهِ ، وَبَغِيضِي بَغِيضُ اللَّهِ ، وَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي الْأَزْهَرِ : أَحْمَدَ بْنِ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيَّ : أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ لَهُ ابْنُ أَخٍ رَافِضِيٌّ فَأَدْخَلَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُتُبِهِ ، وَكَانَ مَعْمَرٌ مَهِيبًا لَا يُرَاجَعُ وَسَمِعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” کوئی مومن ہی تم سے محبت رکھے گا ، اور کوئی منافق ہی تم سے بغض رکھے گا ، جو شخص تم سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو شخص تم سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، میرا حبیب اللہ کا حبیب ہے ، اور میرا ناپسندیدہ شخص اللہ کا ناپسندیدہ شخص ہے ، اس شخص کے لئے بربادی ہے ، جو میرے بعد تم سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوازہر أحمد بن ازہر نیشاپوری کے حالات میں بات تحریر ہے کہ معمر کا ایک بھتیجا تھا ، جو رافضی تھا اس نے
یہ روایت ان کی تحریروں میں داخل کر دی ہے ، اور معمر ایک بارعب شخص تھے ۔ انہیں نظرثانی کے لئے نہیں کہا: جاتا تھا ، امام عبدالرزاق نے ان سے سماع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوازہر أحمد بن ازہر نیشاپوری کے حالات میں بات تحریر ہے کہ معمر کا ایک بھتیجا تھا ، جو رافضی تھا اس نے
یہ روایت ان کی تحریروں میں داخل کر دی ہے ، اور معمر ایک بارعب شخص تھے ۔ انہیں نظرثانی کے لئے نہیں کہا: جاتا تھا ، امام عبدالرزاق نے ان سے سماع کیا ہے ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، حَرَقَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ هِشَامٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” صرف کوئی مومن ہی تم سے محبت رکھے گا ، اور صرف کوئی منافق ہی تم سے بغض رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، امام أحمد نے اس کی نقل کردہ حدیث کو جلا دیا تھا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ایک راوی عثمان بن ہشام ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، امام أحمد نے اس کی نقل کردہ حدیث کو جلا دیا تھا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ایک راوی عثمان بن ہشام ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔