حدیث نمبر: 14733
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْجَبَلِ، فَقَالَ : " إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ " . فَالْتَقَوْا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ مَا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ ، وَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَدَعَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بُرَيْدَةَ ، فَقَالَ : اغْتَنِمْهَا فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا صَنَعَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنْزِلِهِ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى بَابِهِ فَقَالُوا : مَا الْخَبَرُ يَا بُرَيْدَةَ ؟ فَقُلْتُ : خَيْرًا ، فَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ . فَقَالُوا : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قُلْتُ : جَارِيَةٌ أَخَذَهَا عَلِيٌّ مِنَ الْخُمْسِ ، فَجِئْتُ لِأُخْبِرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : فَأَخْبِرِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُ يَسْقُطُ مِنْ عَيْنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ الْكَلَامَ فَخَرَجَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْتَقِصُونَ عَلِيًّا ؟ مَنْ تَنَقَّصَ عَلِيًّا فَقَدْ تَنَقَّصَنِي ، وَمَنْ فَارَقَ عَلِيًّا فَقَدْ فَارَقَنِي ؛ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، خُلِقَ مِنْ طِينَتِي ، وَخُلِقْتُ مِنْ طِينَةِ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَنَا أَفْضَلُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ذَرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ، وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ . يَا بُرَيْدَةُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ لِعَلِيٍّ أَكْثَرَ مِنَ الْجَارِيَةِ الَّتِي أَخَذَ ، وَأَنَّهُ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِالصُّحْبَةِ إِلَّا بَسَطْتَ يَدَكَ فَبَايَعَتْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ جَدِيدًا . قَالَ : فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى بَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَحُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ، آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پہاڑ کا امیر بنا کر بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں اکٹھے ہو گئے ، تو علی لوگوں کا امیر ہو گا ، وہ لوگ اکٹھے ہوئے ، انہیں مال غنیمت حاصل ہوا ، اس طرح کا مال غنیمت انہیں پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے ایک کنیز لے لی ، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم اس موقع کو غنیمت سمجھو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کے بارے میں بتاؤ ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب آپ کے دروازے پر موجود تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : کیا خبر ہے ؟ میں نے کہا: بھلائی کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی ہے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : پھر تم کیوں آ گئے ہو ؟ میں نے کہا: ایک کنیز کی وجہ سے آیا ہوں ، جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال خمس میں سے وصول کر لیا ہے ، اور میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے آیا ہوں ، لوگوں نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دینا کیونکہ اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کم ہو جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات چیت سن رہے تھے ، آپ غصے کے عالم میں باہر تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے کہ وہ علی کی تنقیص کرنا چاہتے ہیں ، جو شخص علی کی تنقیص کرتا ہے وہ میری تنقیص کرتا ہے ، اور جو شخص علی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ اسے میری طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور مجھے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طینت سے پیدا کیا گیا ہے ، اور میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں اور یہ سب ایک دوسرے کی ذریت ہیں ، اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے ۔ اسے بریدہ ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ علی کا حصہ اس کنیز سے زیادہ ہے ، جو اس نے لی ہے ، اور وہ میرے بعد تم لوگوں کا ولی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول الله ! صحبت کا واسطہ ہے آپ اپنا دست مبارک آگے کیجئے ، تاکہ میں نئے سرے سے اسلام کی بیعت کروں ، راوی کہتے ہیں : تو میں اس وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا جب تک میں نے دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی حسین اشقر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف