مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى الْيَمَنِ ، فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ ، حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى سَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّ لِي عَيْنَيْهِ - يَقُولُ : حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ - حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ : " يَا عَمْرُو ، وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي " . قُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " بَلَى ، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ أَخْصَرَ مِنْهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمرو بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل رکھتے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن جانے کے لئے روانہ ہوا ، سفر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ زیادتی کی ، مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے من میں الجھن محسوس ہوئی ، جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شکایت کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سن لیا ، اگلے دن میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ نے مجھ پر نگاہیں مذکور رکھیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ میری طرف تیز نظروں سے دیکھا ، جب میں بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ کی قسم ! تم نے مجھے اذیت دی ہے ، میں نے عرض کی : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کو اذیت دوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔