حدیث نمبر: 14740
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي : أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : مَعَاذَ اللَّهِ ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا: جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سبحان اللہ ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے علی کو برا کہا: ، تحقیق اس نے مجھے برا کہا: ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جدلی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (323/6)»