مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَاهَى بِكُمْ ، وَغَفَرَ لَكُمْ عَامَّةً وَلِعَلِيٍّ خَاصَّةً ، وَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ غَيْرَ مُحَابٍ لِقَرَابَتِي ، هَذَا جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي أَنَّ السَّعِيدَ حَقَّ السَّعِيدِ مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ ، وَأَنَّ الشَّقِيَّ كُلَّ الشَّقِيِّ مَنْ أَبْغَضَ عَلِيًّا فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عرفہ کی شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فخر کا اظہار کیا اور تم لوگوں کی عمومی طور پر اور علی کی بطور خاص مغفرت کر دی ہے ، میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں اپنے رشتے داروں کے لئے امتیازی سلوک کرنے والا نہیں ہوں ، یہ جبرائیل مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ شخص حقیقی طور پر سعادت مند ہے ، جو علی کے ساتھ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی محبت رکھے ، اور وہ شخص مکمل طور پر بدنصیب ہے ، جو اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی علی سے بغض رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔