مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُ أَتَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تَعْرِضُونَ عَلَيَّ سَبَّ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ ، فَهَلْ سَبَبْتَهُ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ سَعْدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي عَلِيٍّ شَيْئًا لَوْ وُضِعَ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِي مَا سَبَبْتُهُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ابوبکر بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ لوگ کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے اور انہیں برا بھلا کہا: ، تو کیا آپ نے انہیں برا بھلا کہا: ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں سعد کی جان ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر میری مانگ پر آری رکھ دی جائے ، تو بھی میں کبھی بھی انہیں برا نہیں کہوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔