مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، انْطَلِقْ فَادْعُ لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ " . - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ " . فَلَمَّا جَاءَ ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْأَنْصَارِ فَأَتَوْهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " هَذَا عَلِيٌّ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي ، وَأَكْرِمُوهُ بِكَرَامَتِي ؛ فَإِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصِّينِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انس ! جاؤ عربوں کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ عربوں کے سردار نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی ، عربوں کا سردار ہے ۔ “ جب وہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھیجا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں کہ جب تم اسے مضبوطی سے تھام لو گے ، تو اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ علی ہے ، تم میرے ساتھ محبت کی وجہ سے اس سے محبت رکھو اور میری عزت کی وجہ سے اس کی عزت افزائی کرو ، کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہ کہا: ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں یہ بات بتا دوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔