مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
عَنْ بُرَيْدَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْبِ - قَالَ : أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أُبْغِضْهُ أَحَدًا قَطُّ قَالَ : وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ قَالَ : فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى جَيْشٍ ، فَصَحِبْتُهُ مَا صَحِبْتُهُ إِلَّا بِبُغْضِهِ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : فَأَصَبْنَا سَبَايَا فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ . قَالَ : فَبَعَثَ [ إِلَيْنَا ] عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ السَّبْيِ قَالَ : فَخَمَّسَ وَقَسَّمَ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَّمْتُ وَخَمَّسْتُ ، فَصَارَتْ فِي الْخُمْسِ ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ فَوَقَعْتُ بِهَا . قَالَ : فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : ابْعَثْنِي مُصَدِّقًا قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ ، وَأَقُولُ : صَدَقَ قَالَ : فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ ، وَقَالَ : " أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَلَا تُبْغِضُهُ ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمْسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ " . قَالَ : فَمَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ بُرَيْدَةَ - : فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَبِي بُرَيْدَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اتنا ناپسند کرتا تھا کہ اتنا کسی اور کو ناپسند نہیں کرتا تھا اور میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے محبت رکھتا تھا ، میں اس سے صرف اس وجہ سے محبت رکھتا تھا ، کیونکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، میں بھی اس شخص کے ساتھ رہا اور جتنا عرصہ اس کے ساتھ رہا ، وہ شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض ہی رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں کچھ قیدی ملے تو اس امیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ آپ ہماری طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس میں سے خمس وصول کر لے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف بھیجا ، قیدیوں میں ایک کنیز تھی جو ان قیدیوں میں سب سے بہتر تھی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس الگ کیا اور مال کو تقسیم کر دیا ، ایک دن وہ باہر تشریف لائے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوالحسن اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے قیدیوں میں موجود اس کنیز کو نہیں دیکھا تھا ، جب میں نے تقسیم کیا اور خمس الگ کیا ، تو وہ کنیز خمس میں آ گئی ، پھر وہ کنیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے حصے میں آ گئی اور پھر وہ آل علی کے حصے میں آ گئی ، تو میں نے اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لی ، راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، تو میں نے عرض کی : آپ مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجیں ، راوی کہتے ہیں : میں خط پڑھ رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ٹھیک کہا: ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اور وہ خط پکڑ لیا اور دریافت کیا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے تھے ، تو اس سے زیادہ محبت رکھو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، خمس میں آل علی کا حصہ اس کنیز سے کہیں زیادہ ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد کوئی بھی میرے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب نہیں رہا ۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس روایت میں میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے ، اور وہ میرے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالجلیل بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔