مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ : " إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ ، وَإِنِ افْتَرَقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ " . قَالَ : فَلَقِينَا بَنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَاقْتَتَلْنَا ، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ ، وَسَبَيْنَا الذُّرِّيَّةَ ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ لِنَفْسِهِ . قَالَ بُرَيْدَةُ : فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعْتُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ ، بَعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ ؛ فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دو مہمات کو بھیجا ، ان میں سے ایک کے امیر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری کے امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم ایک دوسرے سے ملو ، تو علی سب لوگوں کا امیر ہو گا ، اور جب تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ تو تم میں سے ہر ایک اپنے لشکر کا امیر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہماری ملاقات اہل یمن سے تعلق رکھنے والے بنو زید سے ہوئی ، ہم نے لڑائی کی ، مسلمان مشرکین پر غالب آ گئے ، ہم نے جنگجو افراد کو قتل کر دیا اور بال بچوں کو قیدی بنا لیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیدیوں میں سے ایک کنیز اپنے لئے منتخب کر لی ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ خط آپ کے حوالے کیا ، اور وہ خط آپ کے سامنے پڑھا گیا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ پناہ مانگنے والے کا مقام ہے ، آپ نے مجھے ایک شخص کے ساتھ بھیجا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کی اطاعت کروں ، تو میں نے ایسا کیا ، جس حکم کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم علی پر تنقید نہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اور وہ میرے بعد تمہارا ولی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔