کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو ان سے محبت رکھتا ہے ، جو ان سے بغض رکھتا ہے ، یا جو انہیں برا کہتا ہے
حدیث نمبر: 14722
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا قَالَ : مَحَبَّةٌ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَلَكِنَّ الضَّحَّاكَ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، عنقریب رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ضحاک نامی راوی کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ضحاک نامی راوی کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14723
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَ فَرْخًا مَشْوِيًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ وَدَقَّ الْبَابَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : عَلِيٌّ ، فَقُلْتُ : النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلَيَّ ، يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا شَدِيدًا ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَنَسُ مَنْ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : عَلِيٌّ . قَالَ : " أَدْخِلْهُ " . فَدَخَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَحَبِّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ وَإِلَيَّ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الْفَرْخِ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جِئْتُ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّنِي أَنَسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " . قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ تُدْرِكَ الدَّعْوَةُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ قَوْمِهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا آپ کی خدمت میں ایک پرندے کا بھنا ہوا گوشت آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اس فرد کو لے آ ! جو تیری مخلوق میں تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ، تاکہ میرے ساتھ وہ اس پرندے کا گوشت کھائے ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازے پر دستک دی ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : علی ، میں نے عرض کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں ۔ وہ واپس چلے گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا ، تو آپ نے یہ کہا: اے اللہ ! تو اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو میرے پاس لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سن لی ، آپ نے دریافت کیا : اے انس کون ہے ؟ میں نے عرض کی : سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر آنے کے لئے کہو ، وہ اندر آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ میرے پاس اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ بندے کو لے آئے تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرا بھی یہی معاملہ ہے ، میں تین مرتبہ آیا ، ہر مرتبہ انس نے مجھے واپس کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس تم نے جو کیا ہے ، ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میری یہ خواہش تھی کہ آپ کی یہ دعا میری قوم سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو نصیب ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کو اپنی قوم سے محبت کے حوالے سے ملامت نہیں کی جا سکتی ۔
حدیث نمبر: 14724
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَائِطٍ وَقَدْ أُتِيَ بِطَائِرٍ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں موجود تھا ایک پرندہ لایا گیا ۔
حدیث نمبر: 14725
وَفِي رِوَايَةٍ : أَهْدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَائِرًا بَيْنَ رَغِيفَيْنِ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " . فَجَاءَتْهُ بِالطَّائِرِ . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَذِنَ لَهُ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَمَّادُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ الْأَوْسَطِ أَحْمَدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي طَيْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ ام ایمن ہی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا ، جس کے ساتھ دو روٹیاں بھی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، تو اس پرندے کا گوشت آپ کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ کبیر کی سند میں ایک راوی حماد بن مختار ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اوسط کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی أحمد بن عیاض بن ابوطیبہ ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہیں واپس کر دیا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ کبیر کی سند میں ایک راوی حماد بن مختار ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اوسط کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی أحمد بن عیاض بن ابوطیبہ ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14726
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَطْيَارٌ ، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهَا ثَلَاثَةٌ ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ - صَفِيَّةَ أَوْ غَيْرِهَا - فَأَتَتْهُ بِهِنَّ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا " . فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ " . فَنَظَرْتُ فَإِذَا عَلِيٌّ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَاجَةٍ ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْظُرْ مَنْ عَلَى الْبَابِ ؟ " . فَإِذَا عَلِيٌّ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا فَدَخَلَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَبَسَكَ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ " . فَقَالَ : هَذَا آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ يَرُدُّنِي أَنَسٌ يَزْعُمُ أَنَّكَ عَلَى حَاجَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ ، إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُحِبُّ قَوْمَهُ " . قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، آپ نے وہ اپنی ازواج کے درمیان تقسیم کر دیے ، ان میں سے ہر ایک زوجہ محترمہ کے حصے میں تین پرندے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس موجود تھے ، شاید وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں یا کوئی اور تھیں ، وہ ان پرندوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کے آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک پسندیدہ ترین بندے کو لے آ ، تاکہ وہ میرے ساتھ اس کو کھائے ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے سوچا اے اللہ ! تو اسے انصار سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد بنا دے ، تو اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس دیکھو دروازے پر کون ہے ، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول مصروف ہیں ، پھر میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دیکھو دروازے پر کون ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، میں ان کے پیچھے موجود تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تمہیں کس نے روک لیا تھا ، انہوں نے فرمایا : ایسا تیسری مرتبہ ہوا ہے ، انس مجھے واپس کر دیتا تھا ، اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ مصروف ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اے انس ) تم نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی دعا کو سنا تو میری یہ خواہش تھی کہ وہ فرد میری قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، آدمی اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلمان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14727
وَعَنْ سَفِينَةَ - وَكَانَ خَادِمًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوَائِرُ فَصَنَعْتُ لَهُ بَعْضَهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَيْتُهُ بِهِ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الَّتِي أَتَيْتُ بِهِ أَمْسَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَدَّخِرَنَّ لِغَدٍ طَعَامًا ، لِكُلِّ يَوْمٍ رِزْقُهُ ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَيَّ أَحَبَّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي مِنْ هَذَا الطَّيْرِ " . فَدَخَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پرندے تحفے کے طور پر پیش کیے گئے ، میں نے ان میں سے کچھ آپ کے لئے تیار کیے ، صبح کے وقت میں انہیں لے کے آپ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہاں سے آئے ہیں ، میں نے عرض کی : یہ وہی ہیں جو گزشتہ شام آپ کے پاس لائے گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا: تھا کہ تم نے کل کے لئے کھانے کی کوئی چیز سنبھال کے نہیں رکھنی ہے ، ہر دن کے لئے مخصوص رزق ہوتا ہے ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! میرے پاس اپنی مخلوق میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فطر بن خلیفہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14728
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَيْرٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ " . فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ وَإِلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْهُ سُلَيْمَانُ بْنُ قِرْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندے ( کا گوشت ) لایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو میرے پاس اپنے نزدیک اپنی مخلوق میں سے پسندیدہ ترین فرد کو لے آ ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) میرے نزدیک بھی ( سب سے زیادہ محبوب ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ہے ، جو ایک بزرگ ہے ، سلیمان بن قرم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ہے ، جو ایک بزرگ ہے ، سلیمان بن قرم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14729
وَعَنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : لَمَّا سَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ عَلِيًّا عَلَى مُقَدِّمَتِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ النَّخْلَ فَهُوَ آمِنٌ " . فَلَمَّا تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى بِهَا عَلِيٌّ ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَضْحَكُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُضْحِكُكَ ؟ " . قَالَ : إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقُولُ : إِنِّي أُحِبُّكَ " . فَقَالَ : وَبَلَغْتُ أَنْ يُحِبَّنِي جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ جِبْرِيلَ . اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے ہر اول دستے کا امیر مقرر کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کھجور کے باغ میں داخل ہو گا ، وہ محفوظ شمار ہو گا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بات چیت کی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں اسے دہرا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں ان سے ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ) محبت رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبرائیل یہ کہہ رہا ہے : میں تم سے محبت رکھتا ہوں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میری یہ حیثیت ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام مجھ سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اور جو جبرائیل سے بہتر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ ( یعنی وہ بھی تم سے محبت رکھتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن مزاحم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن مزاحم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14730
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ وَهِيَ تَقُولُ : لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا بِنْتَ فُلَانَةَ ، لَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ ذِكْرِ مَحَبَّةِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھیں : میں یہ بات جانتی ہوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے والد کے مقابلے میں آپ کے زیادہ محبوب ہیں ۔ یہ بات انہوں نے دو یا تین مرتبہ کہی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے ، انہوں نے کہا: اے فلانی کی بیٹی ! آئندہ میں نہ سنوں کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر رہی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔