حدیث نمبر: 14734
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ ، وَجَمَعَهُمَا فَقَالَ : " إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَعَلَيْكُمْ عَلِيٌّ " . قَالَ : فَأَخَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ ، وَأَبْعَدَ وَأَصَابَ سَبْيًا ، وَأَخَذَ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ . قَالَ بُرَيْدَةُ : وَكُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بُغْضًا لِعَلِيٍّ قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ ! ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، ثُمَّ تَتَابَعَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى ذَلِكَ ، فَدَعَانِي خَالِدٌ ، فَقَالَ : يَا بُرَيْدَةُ ، قَدْ عَرَفْتَ الَّذِي صَنَعَ ، فَانْطَلِقْ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ الْكِتَابَ بِشِمَالِهِ وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَقْرَأُ وَلَا يَكْتُبُ ، إِذَا تَكَلَّمْتُ طَأْطَأْتُ رَأْسِي حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِي ، فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي فَتَكَلَّمْتُ ، فَوَقَعْتُ فِي عَلِيٍّ حَتَّى فَرَغْتُ ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَ مِثْلَهُ إِلَّا يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ ، أَحِبَّ عَلِيًّا فَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ " . فَقُمْتُ وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن بریدہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الگ الگ لشکروں کا امیر بنا کر بھیجا اور پھر ان دونوں کو اکٹھا ہونے کے حوالے سے یہ فرمایا کہ جب تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ تو علی تم لوگوں کا امیر ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں حضرات نے دائیں اور بائیں حصے کے لشکر کو لیا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس علاقے میں داخل ہوئے اور دور تک گئے ، وہاں انہیں قیدی ملے ، انہوں نے قیدیوں میں سے ایک کنیز کو حاصل کر لیا ، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شدید بغض رکھتا تھا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک کنیز لے لی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہوا ؟ پھر ایک اور شخص آیا ، پھر ایک اور شخص آیا ، پھر لگاتار اس بارے میں اطلاعات آنے لگیں ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور فرمایا : اے بریدہ ! تمہیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ، تم میرا یہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، میں وہ مکتوب لے کے گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اس مکتوب کو لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : نہ آپ نے باقاعدہ پڑھنا سیکھا تھا اور نہ لکھنا سیکھا تھا ، میری یہ عادت تھی کہ جب میں بات کرتا تھا تو بات پوری ہونے تک اپنے سر کو جھکا کے رکھتا تھا ، تو میں نے اپنے سر کو جھکا لیا ، اور بات چیت شروع کی ، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، یہاں تک کہ میں اس سے فارغ ہوا ، پھر میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے کے عالم میں ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے غصے کے عالم میں کبھی نہیں دیکھا تھا ، البتہ جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے موقع پر ایسا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اے بریدہ ! علی سے محبت رکھو کیونکہ اس نے وہی کیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ( یا جس کی اسے اجازت دی گئی ) راوی کہتے ہیں : تو میں اٹھا تو اس وقت میرے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب اور کوئی نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ضعیف راوی بھی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف