مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نُجَيٍّ : أَنَّ عَلِيًّا أُتِيَ يَوْمَ الْبَصِيرِ بِذَهَبٍ وَفِضَّةٍ ، فَقَالَ : ابْيَضِّي وَاصْفَرِّي وَغُرِّي غَيْرِي غُرِّي أَهْلَ الشَّامِ غَدًا إِذَا ظَهَرُوا عَلَيْكِ ، فَشَقَّ قَوْلُهُ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنَّكَ سَتَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ وَشِيعَتُكَ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ ، وَيَقْدَمُ عَلَيْكَ عَدُوُّكَ غِضَابًا مُقْمَحِينَ " . ثُمَّ جَمَعَ عَلِيٌّ يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ يُرِيهِمُ الْإِقْمَاحَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبداللہ بن ابونجیح بیان کرتے ہیں : ” بصیر “ کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سونا اور چاندی لائے گئے تو انہوں نے فرمایا : یہ چاندی اور یہ سونا ، تم میرے علاوہ کسی اور کو غلط فہمی کا شکار کرو ! کل کو جب اہل شام تم پر غالب آ جائیں گے تو تم انہیں دھوکہ دینا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات لوگوں کو گراں گزری ، انہوں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کروایا ، لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” اے علی ! بے شک تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گے کہ تم اور تمہارے ساتھی راضی ہوں گے ، اور ان سے راضی ہوا گیا ہو گا ، اور پھر تمہارا دشمن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ وہ غصے میں ہوں گے ، اور سر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ “ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ گردن کی طرف لے جا کے ان لوگوں کو دکھایا کہ ایسے اُن کے سر اٹھے ہوئے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔