حدیث نمبر: 14741
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ : قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : أَنَّى يُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : أَلَيْسَ يُسَبُّ عَلِيٌّ وَمَنْ يُحِبُّهُ ؟ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوعبداللہ جدلی بیان کرتے ہیں : سید ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! کیا تم لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول کو برا کہا: جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کو کیسے برا کہا: جا سکتا ہے ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور ان سے محبت رکھنے والوں کو برا نہیں کہا: جاتا ؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت رکھتے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14741
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (822) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (322/3)»