مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ أَنَا وَرَجُلَيْنِ مَعِي ، فَنِلْنَا مِنْ عَلِيٍّ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضْبَانَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، فَتَعَوَّذْتُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِهِ ، فَقَالَ : " مَا لَكَمَ وَمَا لِي ؟ مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَحْمُودِ بْنِ خِدَاشٍ وَقَنَانٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، میں تھا اور میرے ساتھ دو افراد تھے ، ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے لگے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تشریف لائے ، آپ غصے کے عالم میں تھے اور آپ کے چہرے سے غصے کا اظہار ہو رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا میرے ساتھ کیا واسطہ ہے ، جس نے علی کو اذیت دی ، اس نے مجھے اذیت دی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمود بن خداش اور قنان کا معاملہ مختلف ہے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔