مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، یا جو ان سے بغض رکھتا ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - قَالَ : حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَحَجَّ مَعَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ - وَكَانَ مِنْ أَسَبِّ النَّاسِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - فَمَرَّ فِي الْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ جَالِسٌ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ - مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْآخَرُ ضَعِيفٌ . ¤ایک روایت میں علی بن ابوطلحہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، جو بنوامیہ کا غلام تھا ، وہ بیان کرتا ہے : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کے لئے گئے ۔ ان کے ساتھ معاویہ بن حدیج بھی حج کے لئے گئے تھے ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو برا کہا: کرتے تھے ۔ ان کا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے ہوا ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تحقیق وہ شخص رسوا ہو گیا جس نے جھوٹا الزام لگایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ، جو بنوامیہ کا غلام ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند ضعیف ہے ۔