کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: معصیت کے بارے میں ، ( حاکم وقت یا امیر کی ) اطاعت نہیں ہو گی
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُنَا فِي أَمْرِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ اللَّهَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ زَيْنَبَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران آ جاتے ہیں جو آپ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور آپ کے حکم کو اختیار نہیں کرتے ہیں ، تو ان لوگوں کے معاملے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی اطاعت نہیں کرے گا اس کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن زینب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن زینب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أَصْلَى بِحَرِّهَا وَيَصْلَوْنَ بِبَرْدِهَا ، إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي . ¤ قَالَ : فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ : فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ ، قَالَ : فَقَالَ عِمْرَانُ : أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِيَ الْحَكَمَ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ : فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ : أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ عِمْرَانُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ . أَوِ اللَّهُ أَكْبَرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زیاد نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر مقرر کرے ، تو انہوں نے یہ بات نہیں مانی ، تو ان کے ساتھیوں نے کہا: کیا آپ نے خراسان کا گورنر بننے کو ترک کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس عہدے کی تپش مجھے ملے اور اس کی ٹھنڈک لوگوں کو ملے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں دشمن کے سامنے ہوؤں گا ، تو زیاد کی طرف سے ایک مکتوب آ جائے گا ، اگر میں اسے جاری رکھتا ہوں ، تو ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہوں ، اور اگر میں واپس آتا ہوں ، تو میری گردن اڑا دی جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو گورنر کا عہدہ پیش کیا ، تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا کوئی حکم کو میرے پاس بلا کر لائے گا قاصد گیا ۔ سیدنا حکم رضی اللہ عنہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جب وہ ان کے پاس آئے ، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے سیدنا حکم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ ؟ فَقَالَ لَهُ : لِمَ ؟ فَقَالَ : أَتَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ : قَعْ فِي النَّارِ فَأُدْرِكَ فَاحْتُبِسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَلْفَاظٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ : " لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حسن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : زیاد نے سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا عامل مقرر کیا ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور لوگوں کے درمیان ان سے ملے اور فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں ؟ میں آپ کے پاس کس لئے آیا ہوں ؟ انہوں نے دریافت کیا : کس لئے آئے ہیں ؟ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد ہے ؟ جو آپ نے اس شخص سے فرمایا تھا ، جسے اس کے امیر نے یہ کہا: تھا : تم آگ میں داخل ہو جاؤ ! لیکن پھر اس شخص کو پکڑ لیا گیا ، اس کو داخل نہیں ہونے دیا گیا ، ( جب بعد میں ) اس بات کی اطلاع ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” اگر وہ شخص آگ میں داخل ہو جاتا ، تو وہ دونوں افراد ( یعنی وہ امیر اور وہ فرد ) آگ میں داخل ہوتے ، کیونکہ اللہ تعالی کی معصیت کے بارے میں ( کسی مخلوق کی ) اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو یہ حدیث یاد دلانے کا ارادہ کر کے آیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” خالق کی معصیت میں ، مخلوق کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” خالق کی معصیت میں ، مخلوق کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اور سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں کسی کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( إِنَّا بَايَعْنَاهُ ) عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَأَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعُهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي بَايَعَنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ ، فَإِمَّا أَنْ تَكُفَّ عَنِّي عُبَادَةَ وَإِمَّا أَنْ أُخَلِّيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ - أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ - قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَانِبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا عُبَادَةُ بْنَ الصَّامِتِ مَالَنَا وَلَكَ ؟ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا ( إِنَّهُ ) يَقُولُ : " سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ وَلَمْ يَقُلْ : عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فَزَادَ عَنْ أَبِيهِ ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ، وَرِوَايَتُهُ عَنْهُمْ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن عبید انصاری کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : انہوں نے پوری حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ بات نقل کی ہے : سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اُس وقت ہمارے ساتھ نہیں تھے ، جب ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم چاک و چوبند ہونے ، یا سست ہونے ( یعنی ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، اور خوشحالی اور تنگی ( ہر حال میں ) خرچ کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ، اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کریں گے اور اس کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ، اور یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ، یثرب تشریف لائیں گے ، تو ہم آپ کی مدد کریں گے اور ہر اس چیز کے حوالے سے اُن کی حفاظت کریں گے ، جس کے حوالے سے ہم اپنے آپ ، اپنے بیٹوں اور اپنی بیویوں کی حفاظت کرتے ہیں ، اور اس کے بدلے میں ہمیں جنت ملے گی ، یہ اللہ کے رسول کی لی ہوئی وہ بیعت تھی ، جو ہم نے کی تھی ، اور جو شخص اُس کو توڑے گا ، تو یہ توڑنا اس کے خلاف جائے گا اور جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کی ہوئی بیعت کا پورا اجر عطا کرے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر رہے ہیں ، تو یا آپ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو میرے حوالے سے روک دیں ، یا پھر میں اُن کے اور اہل شام کے درمیان رکاوٹ نہیں بنتا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا : تم عبادہ کے لئے سواری کا بندوبست کرو اور اسے مدینہ میں موجود اُس کے گھر واپس بھیج دو ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، یہاں تک کے وہ مدینہ منورہ آ گئے ، ایک مرتبہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے گھر آئے ، اس وقت گھر میں سبقت لے جانے والے لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، وہ لوگوں کے پاس آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت گھر کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے عبادہ ! تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور بولے : میں نے سیدنا ابوالقاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ، جو اللہ کے رسول ہیں ، انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ، تم لوگوں کے امور کے نگران ، ایسے لوگ بنیں گے ، جو تمہارے سامنے اس چیز کو معروف قرار دیں گے جسے تم منکر سمجھتے ہو گے ، اور وہ تمہارے سامنے اُس چیز کو منکر قرار دیں گے ، جسے تم معروف سمجھتے ہو گے ، تو اس شخص کی اطاعت نہیں ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے ، تم اپنے پروردگار کی ذات کے حوالے سے کسی غلطی کا شکار نہ ہونا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے یہ نہیں کہا: کہ یہ اسماعیل کے حوالے سے ، اس کے والد سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں اپنے والد کے حوالے سے اضافی الفاظ نقل کئے ہیں ، امام طبرانی نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ اسماعیل بن عیاش نے اسے اہل حجاز سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں سے اس کی نقل کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے یہ نہیں کہا: کہ یہ اسماعیل کے حوالے سے ، اس کے والد سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں اپنے والد کے حوالے سے اضافی الفاظ نقل کئے ہیں ، امام طبرانی نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ اسماعیل بن عیاش نے اسے اہل حجاز سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں سے اس کی نقل کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے ۔
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ بِقُطْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتُعْمِلَ عَلَى سِجِسْتَانَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ حِينَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى جَيْشٍ وَعِنْدَهُ نَارٌ قَدْ أُجِّجَتْ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قُمْ فَانْزِلْهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ ، إِنَّهُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " ؟ وَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
بلال بن بقطر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم کے ایک صحابی کو ، سجستان کا گورنر مقرر کیا گیا ، تو نبی اکرم کے ایک اور صحابی ان سے ملے اور بولے : کیا تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا تھا ، اس امیر کے پاس آگ جلائی گئی ، تو اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے یہ کہا: تم اٹھو اور اس میں داخل ہو جاؤ ! جب نبی اکرم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ شخص اُس میں داخل ہو جاتا ، تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہوتے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں ، کسی کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ پھر اُن ( دوسرے ) صحابی نے ( گورنر صحابی سے ) یہ کہا: میں تمہیں یہ بات یاد دلانا چاہتا تھا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " قُمْ فَانْزِلْهَا " . فَأَبَى فَعَزَمَ عَلَيْهَا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اُٹھو اور اس میں جاؤ ، اس شخص نے انکار کیا ، تو اس امیر نے اس بارے میں تاکید کی “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " ؟ . قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں ، کسی کی اطاعت نہیں ہو گی ، تو امیر ( یعنی گورنر ) بننے والے صحابی نے جواب دیا : جی ہاں ! “
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ مَرَّتْ عَلَيْهِ أَحْمِرَةٌ وَهُوَ بِالشَّامِ تَحْمِلُ خَمْرًا فَأَخَذَ شَفْرَةً مِنَ السُّوقِ فَقَامَ إِلَيْهَا حَتَّى شَقَّقَهَا ثُمَّ قَالَ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَعَلَى الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُنَا فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - : الْمَظْلُومَ وَنَمْنَعَهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَبْنَاءَنَا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کے پاس سے کچھ گدھے گزرے ، جن پر شراب لادی گئی تھی ، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ اس وقت شام میں موجود تھے ، انہوں نے بازار سے ایک چھری لی ، اور شراب کے مشکیزوں کی طرف جا کر انھیں چیر دیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی : کہ ہم چاک و چوبند ہونے اور سست ہونے ، تنگ دست ہونے یا خوشحال ہونے ( یعنی ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کریں گے ، اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ہمیں گرفت میں نہیں لے گی ، اور ہم مظلوم کی مدد کریں گے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر اس چیز کے حوالے سے حفاظت کریں گے ، جس کے حوالے سے ہم ، اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَا سَعْدُ عَلَيْكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَنْ لَا تُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ يَدْعُوكَ إِلَى خِلَافِ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ دَعَوْكَ إِلَى خِلَافِ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَاتَّبِعْ كِتَابَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے سعد ! تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے ، جو تمہاری تنگدستی اور خوشحالی ، خوشی اور زبردستی ( ہر عالم میں ) ہو گی ، اور تم نے حکومت سے متعلقہ افراد کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا ، البتہ اس صورت کا حکم مختلف ہے ، جب وہ تمہیں اللہ کی کتاب میں موجود حکم کے خلاف کی طرف بلائیں ، اگر وہ تمہیں اللہ کی کتاب میں موجود حکم کے خلاف کی طرف بلائیں ، تو تم اللہ کی کتاب کی پیروی کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُحْرِجُوا أُمَّتِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ مَنْ أَمَرَ أُمَّتِي بِمَا لَمْ تَأْمُرْهُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ مِنْهُ فِي حِلٍّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعتبہ خولانی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” تم میری امت کو حرج میں مبتلا نہ کرنا “ ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! جو شخص میری امت کو کوئی ایسا حکم دے ، جو حکم تو نے انہیں نہ دیا ہو ، تو وہ لوگ اس شخص کی طرف سے آزاد ہوں گے ( کہ اس کا وہ حکم نہ مانیں ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن زیاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن زیاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا تَعْرِفُونَ ، وَيَعْلَمُونَ مَا تُنْكِرُونَ فَلَيْسَ أُولَئِكَ عَلَيْكُمْ بِأَئِمَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْأَعْشَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ، عنقریب ایسے حکمران ہوں گے ، جو تمہیں ان باتوں کا حکم دیں گے ، جنہیں تم معروف سمجھتے ہو گے ، اور وہ خود ایسے عمل کریں گے ، جنہیں تم منکر قرار دو گے ، تو تمہارے پیشوا نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اعشی بن عبدالرحمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اعشی بن عبدالرحمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ ، أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ ، فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ ، أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سرکاری عطیات اُس وقت تک وصول کرو ، جب تک وہ عطیات رہیں ، جب وہ دین کے بارے میں رشوت بن جائیں ، تو تم انہیں وصول نہ کرو ، لیکن تم لوگ انہیں چھوڑو گے نہیں ، کیونکہ وہ تمہیں غربت اور حاجت مندی سے بچا کے رکھتے ہیں ، خبردار ! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے ، تو تم کتاب کے احکام کے ساتھ گھومو ، وہ جہاں بھی گھوم کر جاتی ہے ، خبردار ! کتاب اور حکمران ، عنقریب ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے ، تو تم لوگ کتاب سے الگ نہ ہونا ، خبردار ! عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو اپنی ذات کے بارے میں ایسے فیصلے دیں گے کہ اس طرح کے فیصلے وہ تمہارے حق میں نہیں دیں گے ، جب تم ان کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اُسی طرح کرو ، جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا تھا ، کہ انہیں آروں کے ذریعے چیر دیا گیا اور لکڑی پر مصلوب کر دیا گیا ( یعنی انہوں نے موت کو گلے لگا لیا ) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے مر جانا ، اللہ تعالیٰ کی معصیت میں زندہ رہنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یزید بن مرثد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، وضین بن عطاء کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یزید بن مرثد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، وضین بن عطاء کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سُلَالَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ أَرْزَاقَكُمْ يُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ وَيُسِيؤُونَ الْعَمَلَ ، لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ ، فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ فَإِذَا تَجَاوَزُوا فَمَنْ قُتِلَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسلالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تمہارے رزق کے مالک ہوں گے ، وہ تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولیں گے اور عمل کرتے ہوئے برے عمل کریں گے ، وہ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے ، جب تک تم اُن کی قبیح چیزوں کو اچھا قرار نہ دو ، اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کرو ، تم ان لوگوں کو حق دو ، جب تک وہ حق کے حوالے سے راضی رہتے ہیں ، اور جب وہ اس سے تجاوز کریں ، تو جو شخص ایسی صورتحال میں مارا جائے ، وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هِشَامٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ رِقَابَكُمْ وَيُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ فَيُسِيؤُونَ لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہشام سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تمہاری گردنوں کے مالک ہوں گے ، وہ تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولیں گے اور عمل کرتے ہوئے برائی کریں گے ، وہ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے ، جب تک تم ان کی قبیح چیزوں کو عمدہ قرار نہ دو اور اُن کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو ، لیکن تم انہیں حق دینا ، جب تک وہ اُس ( حق ) سے راضی رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ فَمَنْ نَابَذَهُمْ نَجَا وَمَنِ اعْتَزَلَهُمْ سَلِمَ وَمَنْ خَالَطَهُمْ هَلَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ هَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ، جو اچھائیاں بھی کریں گے اور برائیاں بھی کریں گے ، جو انہیں دور کر دے گا ، وہ نجات پائے گا ، جو اُن سے لاتعلقی اختیار کرے گا ، وہ سلامت رہے گا ، اور جو اُن سے گھل مل جائے گا ، وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلُوا فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ فَانْ لَمْ تَفْعَلُوا فَكُونُوا حِينَئِذٍ زَرَّاعِينَ أَشْقِيَاءَ تَأْكُلُونَ مِنْ كَدِّ أَيْدِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم قریش کے لیے ٹھیک رہنا ، جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہتے ہیں ، جب وہ ایسا نہ کریں ، تو تم اپنی تلواریں ، اپنے کندھوں پر رکھنا ، اور ان کے بڑوں ( یعنی حکمرانوں ) کو ہلاک کر دینا ، اگر تم ایسا نہیں کرو گے ، تو ایسی صورت میں ، تم بدنصیب کسانوں کے ساتھ ہو جانا اور اپنی ہاتھوں سے محنت کر کے کھا لینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَقِيمُوا لَكُمْ فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم قریش کے لیے ، اُس وقت تک ٹھیک رہنا ، جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہیں ، اگر وہ تمہارے لئے ٹھیک نہ رہیں ، تو تم اپنی تلواریں ، اپنے کندھوں پر رکھنا ، اور اُن کے بڑوں ( یعنی حکمرانوں ) کو ہلاک کر دینا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ثَلَاثٌ : رَجُلٌ قَرَأَ كِتَابَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا رُئِيَتْ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ وَكَانَ عَلَيْهِ رِدَاءُ الْإِسْلَامِ أَعَارَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِيَّاهُ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَضَرَبَ بِهِ جَارَهُ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّامِي أَحَقُّ بِهِ أَمِ الْمَرْمِيُّ ؟ قَالَ : " الرَّامِي . وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ سُلْطَانًا فَقَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَكَذَبَ ، لَيْسَ لِخَلِيفَةٍ أَنْ يَكُونَ جُنَّةً دُونَ الْخَالِقِ ، وَرَجُلٌ اسْتَخَفَّتْهُ الْأَحَادِيثُ كُلَّمَا قَطَعَ أُحْدُوثَةً حَدَّثَ بِأَطْوَلَ مِنْهَا أَنْ يُدْرِكَ الدَّجَّالَ يَتْبَعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ تین چیزوں کے حوالے سے ہے ، وہ شخص جو اللہ کی کتاب پڑھے گا یہاں تک کہ اس کا نور اس شخص پر نظر آنے لگے گا ، اور اس شخص پر اسلام کی چادر موجود ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ نے اُسے عطا کی ہو گی ، تو وہ شخص اپنی تلوار سونت لے گا اور اُس کے ذریعے اپنے پڑوسی پر حملہ کر دے گا اور اس پر شرک کا الزام لگائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! مارنے والا ( یا الزام لگانے والا ) اس ( یعنی شرک ) کا زیادہ حقدار ہو گا ؟ یا وہ زیادہ حقدار ہو گا ، جس کو مارا گیا ہو ( یعنی جس پر الزام لگایا گیا ہو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مارنے والا ( یا الزام لگانے والا اس شرک کا ) زیادہ حقدار ہو گا ، اور ایک وہ شخص ، جسے اللہ تعالیٰ حکومت عطا کرے اور پھر وہ یہ کہے : جو شخص میری اطاعت کرے گا ، اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ، حالانکہ اس کی یہ بات جھوٹ ہو گی ، کسی خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خالق کے سامنے ڈھال بنے اور ایک وہ شخص ، جو حدیث بیان کرتے ہوئے ، اسے ہلکا سمجھے گا ، جب اس کی ایک بات ختم ہو گی ، تو وہ اُس سے زیادہ طویل روایت بیان کرنا شروع کر دے گا ، وہ دجال تک پہنچ جائے گا اور اس کی پیروی کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
وَعَنْ مَغْرَاءَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَامِرٍ الشَّامَ ، أَتَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِهِمْ ، إِلَّا أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِهِ فَقَالَ : لَا أَرِي أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَانِي لَآتِيَنَّهُ فَلْأَقْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ، فَأَتَاهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَتَانِي أَصْحَابُكَ وَلَمْ تَأْتِنِي فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ فَأَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ . فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَا كُنْتَ قَطُّ أَصْغَرَ فِي عَيْنِ اللَّهِ وَلَا فِي عَيْنِي مِنَ الْيَوْمِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَتَغَيَّرَ لَكُمْ إِذَا تَغَيَّرْتُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مغراء بیان کرتے ہیں : جب ابن عامر شام آئے ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، جتنے کے بارے میں ، اللہ کو منظور تھا اتنے صحابہ کرام اور دوسرے لوگ ان کے پاس آئے ، صرف سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس نہیں آئے ، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ میرے پاس نہیں آئے ، میں اُن کے پاس ضرور جاؤں گا اور اُن کے حق کو ادا کروں گا ، پھر وہ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا اور بولے : آپ کے ساتھی میرے پاس آ گئے تھے ، لیکن آپ میرے پاس نہیں آئے ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں آپ کے پاس آ جاؤں اور آپ کے حق کو ادا کروں ، سیدنا ابودرداء نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ، اور اپنی نظر میں ، میں کبھی بھی آج کے دن سے زیادہ چھوٹا نہیں ہوا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جب تم لوگ ( یعنی حکمران ) تبدیل ہو جاؤ ، تو تمہارے لیے ہم بھی تبدیل ہو جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔