مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ . باب: معصیت کے بارے میں ، ( حاکم وقت یا امیر کی ) اطاعت نہیں ہو گی
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ ، أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ ، فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ ، أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سرکاری عطیات اُس وقت تک وصول کرو ، جب تک وہ عطیات رہیں ، جب وہ دین کے بارے میں رشوت بن جائیں ، تو تم انہیں وصول نہ کرو ، لیکن تم لوگ انہیں چھوڑو گے نہیں ، کیونکہ وہ تمہیں غربت اور حاجت مندی سے بچا کے رکھتے ہیں ، خبردار ! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے ، تو تم کتاب کے احکام کے ساتھ گھومو ، وہ جہاں بھی گھوم کر جاتی ہے ، خبردار ! کتاب اور حکمران ، عنقریب ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے ، تو تم لوگ کتاب سے الگ نہ ہونا ، خبردار ! عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو اپنی ذات کے بارے میں ایسے فیصلے دیں گے کہ اس طرح کے فیصلے وہ تمہارے حق میں نہیں دیں گے ، جب تم ان کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اُسی طرح کرو ، جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا تھا ، کہ انہیں آروں کے ذریعے چیر دیا گیا اور لکڑی پر مصلوب کر دیا گیا ( یعنی انہوں نے موت کو گلے لگا لیا ) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے مر جانا ، اللہ تعالیٰ کی معصیت میں زندہ رہنے سے زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یزید بن مرثد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، وضین بن عطاء کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔