حدیث نمبر: 9155
وَعَنْ أَبِي هِشَامٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ رِقَابَكُمْ وَيُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ فَيُسِيؤُونَ لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہشام سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تمہاری گردنوں کے مالک ہوں گے ، وہ تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولیں گے اور عمل کرتے ہوئے برائی کریں گے ، وہ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے ، جب تک تم ان کی قبیح چیزوں کو عمدہ قرار نہ دو اور اُن کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو ، لیکن تم انہیں حق دینا ، جب تک وہ اُس ( حق ) سے راضی رہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1373/22)»