کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جماعت کے ساتھ رہنا ، امت سے خروج اور ان سے جنگ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9128
عَنْ رِبْعَيِّ بْنِ خِرَاشٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ : يَا رِبْعَيُّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَنْ أَيِّهِمْ تَسْأَلُ ؟ قَالَ : مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ . قَالَ : فَسَمَّيْتُ رِجَالًا مِمَّنْ خَرَجَ إِلَيْهِ . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ربعی بن خراش بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدائن آیا یہ ان دنوں کی بات ہے ، جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ربعی تمہاری قوم کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے کہا: آپ کس چیز کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ان میں سے جو لوگ نکل کر ان صاحب کی طرف گئے ہیں ربعی کہتے ہیں : میں نے کچھ ایسے افراد کا نام لیا جو نکل کر ان کی طرف گئے ہیں ، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے ، اور امیر کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا کوئی چہرہ نہیں ہو گا ( یا اسے کوئی اجر نہیں ملے گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (387/5)»
حدیث نمبر: 9129
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَاضْطَجَعَ فِيهِ ، فَكَانَ هُوَ بَيْتَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( الْمَسْجِدَ ) لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ ( نَائِمًا ) مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ أَنَامُ ؟ وَهَلْ لِي ( مِنْ ) بَيْتٍ غَيْرُهُ ؟ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ ؟ " قَالَ : إِذًا أَلْحَقُ بِالشَّامِ فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا . فَقَالَ لَهُ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ ؟ " قَالَ : إِذًا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَكُونُ بَيْتِي وَمَنْزِلِي . قَالَ : " فَكَيْفَ بِكَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ ؟ " قَالَ : إِذًا فَآخُذُ سَيْفِي فَأُقَاتِلُ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ ( قَالَ ) ، فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ حَتَّى تَلْقَانِي وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر کے فارغ ہوتے تھے ، تو مسجد میں آ جاتے تھے اور وہاں لیٹ جاتے تھے مسجد ہی ان کا گھر تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مسجد میں تشریف لائے ، تو انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سوئے ہوئے پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے انہیں ٹہوکہ دیا تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں سویا ہوا نہیں پا رہا ہوں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں سوؤں ؟ کیا میرا اس کے علاوہ کوئی اور گھر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ، جب لوگ تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں شام چلا جاؤں گا کیونکہ شام ہجرت کی سرزمین ہے ، اور محشر کی سرزمین ہے ، اور انبیاء کی سرزمین ہے وہاں کے افراد میں سے ایک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب وہ لوگ تمہیں شام سے بھی نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : اس صورت میں ، میں واپس آ جاؤں گا یہی میرا گھر اور ٹھکانہ ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ، جب وہ یہاں سے تمہیں دوبارہ نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں تلوار پکڑوں گا ، اور جنگ کرنا شروع کر دوں گا یہاں تک کہ مر جاؤں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ان کے ہاتھ کو تھپتھپایا ، اور فرمایا : کیا میں اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : وہ تمہیں جس طرف بھیجیں گے تم ادھر چلے جانا وہ تمہیں جس طرف ہانک کر لے جائیں گے تم ادھر چلے جانا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو اور تم اسی حالت میں ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (457/6)»
حدیث نمبر: 9130
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : " وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ " فَجَعَلَ يُعِيدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ " قُلْتُ : إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ فَأَكُونُ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ الْحَرَمِ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ ؟ " قَالَ : إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَخَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ وَفِي ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلِيلٍ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا ذَرٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دے گا ، اور اسے وہاں سے رزق عطا کرے گا ، جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہو گا ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے “ ۔ ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت میرے سامنے دہرائی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آ گئی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف جاؤں گا میں چلا جاؤں گا ، اور حرم کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا ( یعنی مکہ میں رہائش اختیار کر لوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں مکہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف شام اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس صورت میں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اپنی تلوار اپنی گردن پر رکھ لوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم بات سنو اور اطاعت کرو خواہ ( حکم دینے والا حکمران ) کوئی حبشی غلام ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا آخری حصہ منقول ہے ، اور ابن ماجہ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلیل ضریب بن نفیر نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (178/5)»
حدیث نمبر: 9131
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ ، أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ إِلَّا مَحْرَمٌ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ " . وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کسی کی اطاعت نہ ہو تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اگر وہ اس ( اطاعت ) کو اپنی گردن میں باندھ لینے کے بعد اسے اتار دے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کی کوئی حجت نہیں ہو گی خبردار کوئی شخص کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا البتہ اگر عورت کا ) کوئی محرم ہو تو حکم مختلف ہے شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے ، اور دو سے زیادہ دور ہوتا ہے جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ یہ امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے اس اطاعت کو اپنی گردن باندھ لینے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1636) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7201) اخرجه أحمد فى المسند (446/3)»
حدیث نمبر: 9132
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ " . قَالَ : فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ . " إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةَ " . قَالَ : " أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ فَأَنْ تُعْطِيَ الرَّجُلَ بَيْعَتَكَ ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكَ ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک نماز اپنے سے پہلے کی نماز کے درمیان کی چیزوں کا کفارہ بن جاتی ہے البتہ تین امور کا معاملہ مختلف ہے راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ ہو گیا کہ کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اس چیز کا معاملہ مختلف ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جائے یا سودے کو ختم کر دیا جائے یا سنت کو ترک کر دیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یا راوی نے کہا: ) جہاں تک سودے کو ختم کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم کسی شخص کی بیعت کرو اور پھر تلوار لے کر اس سے جنگ کرنے چل پڑو اور سنت کو ترک کرنے سے مراد یہ ہے کہ جماعت سے نکل جانا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (10584)»
حدیث نمبر: 9133
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ عُمَّالِكُمْ وَشِرَارِهِمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " خِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لَكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُ وَيُحِبُّكُمْ وَتَدْعُونَ اللَّهَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ اللَّهَ لَكُمْ ، وَشِرَارُهُمْ لَكُمْ مَنْ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَدْعُونَ اللَّهَ عَلَيْهِمْ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَلَيْكُمْ " . فَقَالُوا : أَلَا نُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا دَعُوهُمْ مَا صَامُوا وَصَلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يُونُسَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین حکمرانوں اور بدترین حکمرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے بہتر وہ ہوں گے جو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوں گے جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور وہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور ان میں سے برے وہ ہوں گے جو تمہارے لئے زیادہ برے ہوں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے ضرر کرو اور وہ تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں “ ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے ساتھ جنگ نہ کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ۔ جب تک وہ روزے رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں تم انہیں ایسے ہی رہنے دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یونس ہے ، جسے أحمد عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (293/17)»
حدیث نمبر: 9134
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : أَنْكَرَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ فِي زَمَنِ حُذَيْفَةَ شَيْئًا ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ فَرَفَعَ حُذَيْفَةُ رَأْسَهُ ، فَعَرَفَ مَا أَرَادَ ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ لَحَسَنٌ ، وَلَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُشْهِرَ السِّلَاحَ عَلَى أَمِيرِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ خَالِدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے اس وقت کے گورنر کی کسی چیز کا انکار کیا ایک شخص شہر کی بڑی مسجد میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا جو اس وقت ایک حلقے میں تشریف فرما تھے وہ ان کے سرہانے کھڑا ہوا اور بولا: اے اللہ کے رسول کے صحابی کیا آپ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا انہیں اس کی مراد کا اندازہ ہو گیا ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اچھا کام ہے ، لیکن یہ سنت نہیں ہے کہ تم اپنے امیر کے خلاف ہتھیار اٹھا لو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خالد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1633)»
حدیث نمبر: 9135
وَعَنْ جَبَلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ فَارَقَ الْإِسْلَامَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو گا وہ اسلام سے الگ ہو جائے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1634)»
حدیث نمبر: 9136
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيَاسَ أَوْ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ فَمِيتَتُهُ مِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ مَاتَ تَحْتَ رَايَةِ عَصَبِيَّةٍ ( يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً ) فَقِتْلَتُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو جائے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کوئی امام نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی عصبیت کے جھنڈے کے تحت مرے کہ وہ عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہو تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9136
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1634) أخرجه الطبراني فى المعجم الكسر (10687)»
حدیث نمبر: 9137
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَعْطَى بَيْعَةً ثُمَّ نَكَثَهَا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَيْسَتْ مَعَهُ يَمِينُهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کے ساتھ اس کا دایاں ہاتھ نہیں ہو گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ( اس بارے میں ) منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سعد ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9137
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابوبعلي فى المسند (7375) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (217) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (334/19)»
حدیث نمبر: 9138
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَنْطَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مر جائے ، اور اس پر کوئی امام نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن حسن قنطری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9139
وَعَنِ الْأَشْتَرِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُمْ : " إِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَالْفَذُّ مَعَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ الْحَقَّ أَصْلٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْبَاطِلَ أَصْلٌ فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
اشتر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کا دست رحمت ، جماعت کے ساتھ ہوتا ہے اور علیحدہ شخص شیطان کے ساتھ ہوتا ہے اور حق کی بنیاد جنت میں ہے ، اور باطل کی بنیاد جہنم میں ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9140
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ ، وَحَتَّى يَحْلِفَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، وَيَبْذُلَ نَفْسَهُ بِخَطْبِ الزُّورِ ، فَمَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، وَمَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ( عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ) إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری وجہ سے میرے اصحاب کا دھیان رکھنا پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر جھوٹ ظاہر ہو گا پھر کسی شخص سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی لیکن وہ پھر بھی گواہی دے گا ، اور کسی شخص سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، لیکن وہ پھر بھی حلف اٹھا لے گا وہ جھوٹ کے بیان کے عوض میں اپنے آپ کو خرچ کرے گا ، جو شخص جنت کے درمیان میں رہنا چاہتا ہو وہ جماعت کے ساتھ رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے ، اور شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے ، اور وہ دو سے زیادہ دور ہوتا ہے ، اور کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا ، اور جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خالد مصیصی ہے ، اور وہ متروک ہے اس سے پہلے والے باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف