کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور خیرخواہی کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 9161
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِ قَالَ : جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ ، فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ، ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ : أَلَمْ تَسْمَعْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدُّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ " ؟ . ¤ فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ : يَا هِشَامُ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِذِي سُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً ، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُو بِهِ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ " ؟ . ¤ وَإِنَّكَ أَنْتَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ ، إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ ، فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِشُرَيْحٍ مِنْ عِيَاضٍ وَهِشَامٍ سَمَاعًا وَإِنْ كَانَ تَابِعِيًّا . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ، یہ اس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ، تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، یہاں تک کہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، پھر کچھ دن گزرنے کے بعد ہشام بن حکیم ، ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ، پھر ہشام نے یہ کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ” لوگوں میں ، سب سے زیادہ شدید عذاب ، اُس شخص کو ہو گا ، جو دنیا میں ، لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا“ ۔ تو سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ہشام بن حکیم ! جو آپ نے سنا ہے ، وہ ہم نے بھی سنا ہوا ہے ، لیکن جو ہم نے دیکھا ہے وہ آپ نے نہیں دیکھا ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کسی حکمران کی خیرخواہی کرنے کا ارادہ رکھے ، تو وہ معاملہ اعلانیہ طور پر اس کے سامنے ظاہر نہ کرے ، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ، اسے تنہائی میں لے جائے ، اگر وہ حکمران اُس کی بات کو قبول کر لے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس نے اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دیا “ ۔ اے ہشام ! تم اس حوالے سے جرات مند ہو ، تم نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حکمران کے سامنے جرات کا مظاہرہ کیا ہے ، تم اس بات سے ڈرے کیوں نہیں ؟ کہ سلطان تمہیں قتل کروا سکتا ہے ، اور تم اللہ کے سلطان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے فرد بن جاتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ، جو ہشام سے منقول روایت ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں نے شریح کے سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ یا سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، اگرچہ وہ تابعی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (404 و 403/3)»
حدیث نمبر: 9162
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ وَمَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا عِيَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا " ؟ . ¤ فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ : إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ ، وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ ، وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ، یہ اُس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ، تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، کچھ دن گزرنے کے بعد ، ہشام بن حکیم ، اُن کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ، اور یہ کہا: اے عیاض ! کیا آپ نہیں جانتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں میں ، سب سے زیادہ شدید عذاب ، اُس شخص کو ہو گا ، جو دنیا میں ، لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا “ ۔ تو سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جو آپ نے سنا ہے وہ ہم نے بھی سنا ہے ، جو آپ نے دیکھا ہے ، وہ ہم نے بھی دیکھا ہے اور ہم بھی اُسی طرح صحابی ہیں ، جس طرح آپ صحابی ہیں ، لیکن اے ہشام ! کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : جس شخص کے پاس کوئی نصیحت ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367/17)»
حدیث نمبر: 9163
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ : لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى - وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ : مَا فَعَلَ وَالِدُكَ ؟ قُلْتُ : قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ . قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ ، قَالَ : قُلْتُ : الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ؟ قَالَ : بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا . قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ وَيَفْعَلُ بِهِمْ ؟ قَالَ : فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ قَالَ : وَيَحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ - مَرَّتَيْنِ - إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے ؟ میں نے بتایا : انہیں ازارقہ نے قتل کر دیا ہے ، انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ لوگ جہنم کے کتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ ؟ یا تمام خوارج ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ، میں نے دریافت کیا : اگر کوئی حکمران لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور اُن کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے زور سے چبھویا اور پھر بولے : اے ابن جمہان ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے سواد اعظم کے ساتھ رہنا ہے ، یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی اور پھر بولے : اگر حکمران تمہاری بات سنتا ہے تو تم اس کے گھر میں ، اُس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے اطلاع دو ! اگر وہ تمہاری بات کو قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (382/4)»