حدیث نمبر: 9145
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( إِنَّا بَايَعْنَاهُ ) عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَأَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعُهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي بَايَعَنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ ، فَإِمَّا أَنْ تَكُفَّ عَنِّي عُبَادَةَ وَإِمَّا أَنْ أُخَلِّيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ - أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ - قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَانِبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا عُبَادَةُ بْنَ الصَّامِتِ مَالَنَا وَلَكَ ؟ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا ( إِنَّهُ ) يَقُولُ : " سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ وَلَمْ يَقُلْ : عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فَزَادَ عَنْ أَبِيهِ ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ، وَرِوَايَتُهُ عَنْهُمْ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین

اسماعیل بن عبید انصاری کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : انہوں نے پوری حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ بات نقل کی ہے : سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اُس وقت ہمارے ساتھ نہیں تھے ، جب ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم چاک و چوبند ہونے ، یا سست ہونے ( یعنی ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، اور خوشحالی اور تنگی ( ہر حال میں ) خرچ کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ، اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کریں گے اور اس کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ، اور یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ، یثرب تشریف لائیں گے ، تو ہم آپ کی مدد کریں گے اور ہر اس چیز کے حوالے سے اُن کی حفاظت کریں گے ، جس کے حوالے سے ہم اپنے آپ ، اپنے بیٹوں اور اپنی بیویوں کی حفاظت کرتے ہیں ، اور اس کے بدلے میں ہمیں جنت ملے گی ، یہ اللہ کے رسول کی لی ہوئی وہ بیعت تھی ، جو ہم نے کی تھی ، اور جو شخص اُس کو توڑے گا ، تو یہ توڑنا اس کے خلاف جائے گا اور جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کی ہوئی بیعت کا پورا اجر عطا کرے گا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر رہے ہیں ، تو یا آپ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو میرے حوالے سے روک دیں ، یا پھر میں اُن کے اور اہل شام کے درمیان رکاوٹ نہیں بنتا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا : تم عبادہ کے لئے سواری کا بندوبست کرو اور اسے مدینہ میں موجود اُس کے گھر واپس بھیج دو ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، یہاں تک کے وہ مدینہ منورہ آ گئے ، ایک مرتبہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے گھر آئے ، اس وقت گھر میں سبقت لے جانے والے لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، وہ لوگوں کے پاس آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت گھر کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے عبادہ ! تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور بولے : میں نے سیدنا ابوالقاسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ، جو اللہ کے رسول ہیں ، انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد ، تم لوگوں کے امور کے نگران ، ایسے لوگ بنیں گے ، جو تمہارے سامنے اس چیز کو معروف قرار دیں گے جسے تم منکر سمجھتے ہو گے ، اور وہ تمہارے سامنے اُس چیز کو منکر قرار دیں گے ، جسے تم معروف سمجھتے ہو گے ، تو اس شخص کی اطاعت نہیں ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے ، تم اپنے پروردگار کی ذات کے حوالے سے کسی غلطی کا شکار نہ ہونا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے یہ نہیں کہا: کہ یہ اسماعیل کے حوالے سے ، اس کے والد سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں اپنے والد کے حوالے سے اضافی الفاظ نقل کئے ہیں ، امام طبرانی نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ اسماعیل بن عیاش نے اسے اہل حجاز سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں سے اس کی نقل کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (325/5)»