حدیث نمبر: 9142
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أَصْلَى بِحَرِّهَا وَيَصْلَوْنَ بِبَرْدِهَا ، إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي . ¤ قَالَ : فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ : فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ ، قَالَ : فَقَالَ عِمْرَانُ : أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِيَ الْحَكَمَ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ : فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ : أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ عِمْرَانُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ . أَوِ اللَّهُ أَكْبَرُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زیاد نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر مقرر کرے ، تو انہوں نے یہ بات نہیں مانی ، تو ان کے ساتھیوں نے کہا: کیا آپ نے خراسان کا گورنر بننے کو ترک کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس عہدے کی تپش مجھے ملے اور اس کی ٹھنڈک لوگوں کو ملے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں دشمن کے سامنے ہوؤں گا ، تو زیاد کی طرف سے ایک مکتوب آ جائے گا ، اگر میں اسے جاری رکھتا ہوں ، تو ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہوں ، اور اگر میں واپس آتا ہوں ، تو میری گردن اڑا دی جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو گورنر کا عہدہ پیش کیا ، تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا کوئی حکم کو میرے پاس بلا کر لائے گا قاصد گیا ۔ سیدنا حکم رضی اللہ عنہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جب وہ ان کے پاس آئے ، تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے سیدنا حکم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہو گی “ ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1374) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3160) اخرجه احمد فى المسند (432/4)»