❮
❯
حدیث نمبر: 9160
وَعَنْ مَغْرَاءَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَامِرٍ الشَّامَ ، أَتَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِهِمْ ، إِلَّا أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِهِ فَقَالَ : لَا أَرِي أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَانِي لَآتِيَنَّهُ فَلْأَقْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ، فَأَتَاهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَتَانِي أَصْحَابُكَ وَلَمْ تَأْتِنِي فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ فَأَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ . فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَا كُنْتَ قَطُّ أَصْغَرَ فِي عَيْنِ اللَّهِ وَلَا فِي عَيْنِي مِنَ الْيَوْمِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَتَغَيَّرَ لَكُمْ إِذَا تَغَيَّرْتُمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین

مغراء بیان کرتے ہیں : جب ابن عامر شام آئے ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ، جتنے کے بارے میں ، اللہ کو منظور تھا اتنے صحابہ کرام اور دوسرے لوگ ان کے پاس آئے ، صرف سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس نہیں آئے ، تو انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ میرے پاس نہیں آئے ، میں اُن کے پاس ضرور جاؤں گا اور اُن کے حق کو ادا کروں گا ، پھر وہ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا اور بولے : آپ کے ساتھی میرے پاس آ گئے تھے ، لیکن آپ میرے پاس نہیں آئے ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں آپ کے پاس آ جاؤں اور آپ کے حق کو ادا کروں ، سیدنا ابودرداء نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی نظر میں ، اور میری نظر میں ، کبھی بھی آج کے دن سے زیادہ چھوٹے نہیں ہوئے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جب تم لوگ ( یعنی حکمران ) تبدیل ہو جاؤ ، تو تمہارے لیے ہم بھی تبدیل ہو جائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف