حدیث نمبر: 9159
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ثَلَاثٌ : رَجُلٌ قَرَأَ كِتَابَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا رُئِيَتْ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ وَكَانَ عَلَيْهِ رِدَاءُ الْإِسْلَامِ أَعَارَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِيَّاهُ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَضَرَبَ بِهِ جَارَهُ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّامِي أَحَقُّ بِهِ أَمِ الْمَرْمِيُّ ؟ قَالَ : " الرَّامِي . وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ سُلْطَانًا فَقَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَكَذَبَ ، لَيْسَ لِخَلِيفَةٍ أَنْ يَكُونَ جُنَّةً دُونَ الْخَالِقِ ، وَرَجُلٌ اسْتَخَفَّتْهُ الْأَحَادِيثُ كُلَّمَا قَطَعَ أُحْدُوثَةً حَدَّثَ بِأَطْوَلَ مِنْهَا أَنْ يُدْرِكَ الدَّجَّالَ يَتْبَعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ تین چیزوں کے حوالے سے ہے ، وہ شخص جو اللہ کی کتاب پڑھے گا یہاں تک کہ اس کا نور اس شخص پر نظر آنے لگے گا ، اور اس شخص پر اسلام کی چادر موجود ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ نے اُسے عطا کی ہو گی ، تو وہ شخص اپنی تلوار سونت لے گا اور اُس کے ذریعے اپنے پڑوسی پر حملہ کر دے گا اور اس پر شرک کا الزام لگائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! مارنے والا ( یا الزام لگانے والا ) اس ( یعنی شرک ) کا زیادہ حقدار ہو گا ؟ یا وہ زیادہ حقدار ہو گا ، جس کو مارا گیا ہو ( یعنی جس پر الزام لگایا گیا ہو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مارنے والا ( یا الزام لگانے والا اس شرک کا ) زیادہ حقدار ہو گا ، اور ایک وہ شخص ، جسے اللہ تعالیٰ حکومت عطا کرے اور پھر وہ یہ کہے : جو شخص میری اطاعت کرے گا ، اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ، حالانکہ اس کی یہ بات جھوٹ ہو گی ، کسی خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خالق کے سامنے ڈھال بنے اور ایک وہ شخص ، جو حدیث بیان کرتے ہوئے ، اسے ہلکا سمجھے گا ، جب اس کی ایک بات ختم ہو گی ، تو وہ اُس سے زیادہ طویل روایت بیان کرنا شروع کر دے گا ، وہ دجال تک پہنچ جائے گا اور اس کی پیروی کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1001) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (88/20)»