عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ ( مجھ سے علمی باتیں ) سنو ! تم سے بھی سنا جائے گا ، جنہوں نے تم سے سنا ہو گا ، اُن سے بھی سنا جائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ، جو گواہی دیں گے ، اس سے پہلے کہ اُن سے گواہی مانگی جائے “ ۔
یہ روایت امام بزار ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالرحمن بن ابی لیلی نامی راوی نے ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالرحمن بن ابی لیلی نامی راوی نے ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْخُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَيْفٍ ، سَعِيدَ بْنَ بَزِيغٍ ; فَإِنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ . وَإِنْ كَانَ سَعِيدَ بْنَ الرَّبِيعِ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ; فَإِنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقعہ پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ! جو میری بات سن کر اُسے محفوظ رکھے ، کیونکہ بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن شخص کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا ، اللہ تعالٰی کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ سلیمان بن سیف کے استاد سعید بن بزیغ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اگرچہ سعید بن ربیع ، جو صحیح کے رجال میں سے ایک ہیں ، اُنہوں نے ان دونوں سے روایات نقل کی ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ سلیمان بن سیف کے استاد سعید بن بزیغ کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اگرچہ سعید بن ربیع ، جو صحیح کے رجال میں سے ایک ہیں ، اُنہوں نے ان دونوں سے روایات نقل کی ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً ، سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَبَلَّغَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنَّصِيحَةُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ! جو میری یہ گفتگو سن کر اُس کی تبلیغ کر دے ، کیونکہ بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ بڑا عالم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنا ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ ان کی دعا اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کا مدار عبدالرحمن بن زبید نامی راوی پر ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ میں بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کا مدار عبدالرحمن بن زبید نامی راوی پر ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ میں بیان کی ہے ۔
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن عمیر نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص ، وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے بڑا عالم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ میں نے کسی کو محمد بن نصر نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، جو معجم اوسط میں امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ میں نے کسی کو محمد بن نصر نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، جو معجم اوسط میں امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ كَلَامِي ثُمَّ لَمْ يَزِدْ فِيهِ ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى [ مَنْ هُوَ ] أَوْعَى مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأُولِي الْأَمْرِ ، وَالِاعْتِصَامُ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ : " رُبَّ حَامِلِ كَلِمَةٍ " بَدَلَ : " فِقْهٍ " . وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، رُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میرا کلام سنے اور اُس میں کوئی اضافہ نہ کرے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص اس بات کو اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ بہتر طور پر اس بات کو یاد رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں ، مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، کیونکہ ان کی دعاء ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں لفظ ” حامل فقہ “ کی بجائے ” حامل کلمہ “ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں لفظ ” حامل فقہ “ کی بجائے ” حامل کلمہ “ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ وَجْهَ عَبْدٍ سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَمَلَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى الْخَيَّاطُ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے خطبہ کے دوران یہ بات بیان کی : مسجد خیف میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری بات سن کر اسے سیکھ لے ، کیونکہ بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ( یعنی اُس سے زیادہ علم رکھتا ہے ) تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ، اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خیاط ہے ، جو متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خیاط ہے ، جو متروک الحدیث ہے ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَمَشَّاهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اُس کا ساتھ دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اُس کا ساتھ دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ جَنْدَرَةَ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ عِلْمٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ الْقَلْبُ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ ، وَمُنَاصَحَةُ الْوُلَاةِ ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ " . قَالَ : وَبَلَغَنِي أَنَّ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ أَسَرَتْهُ الرُّومُ ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يُنَادِيهِ مِنْ سُورِ عَسْقَلَانَ فِي وَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ : يَا فُلَانُ ، الصَّلَاةُ ، فَيَسْمَعُهُ فَيُجِيبُهُ ، وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ الْبَحْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ جندرہ بن خیثمہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ کر لے اور یاد رکھے ، بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ، اس شخص تک ( وہ بات ) منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ، تین چیزوں کے بارے میں دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا خالص ہونا ، حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور جماعت کے ساتھ رہنا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو رومیوں نے قید کر لیا ، تو سیدنا ابوقرصافحہ ہیں رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت ” عسقلان “ شہر کی فصیل کے پاس بلند آواز میں یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اُن کے بیٹے اُن کی آواز سنتے تھے اور انہیں جواب دیتے تھے ، حالانکہ ان دونوں کے درمیان سمندر کی چوڑائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے اُس کے راویوں میں سے کسی کا ذکر کرتے ہوئے ، کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے اُس کے راویوں میں سے کسی کا ذکر کرتے ہوئے ، کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ بَلَّغَهَا ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَرْبَرِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے اور پھر اُس کی تبلیغ کر دے ، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس تک تبلیغ کی گئی ہوتی ہے ، وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں ، اُس بات کو زیادہ بہتر طور پر محفوظ رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بربری ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بربری ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَهُوَ غَيْرُ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، کیونکہ بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات ( ایسا بھی ہوتا ہے ) کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے بڑا عالم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبداللہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبداللہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا ثُمَّ ذَهَبَ بِهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ [ مُؤْمِنٍ ] : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنُّصْحُ لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْأَمْرَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : منی میں ، مسجد خیف میں ، ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، اور پھر اُسے اُس شخص تک پہنچا دے ، جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے بڑا عالم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، اُن لوگوں کے لیے خیرخواہی ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا حکمران بنایا ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ اُن کی دعا ، پیچھے موجود افراد تک محیط ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنِّي مُحَدِّثُكُمُ الْحَدِيثَ ، فَلْيُحَدِّثِ الْحَاضِرُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” میں تمہارے سامنے کوئی بات کرتا ہوں ، تو تم میں سے موجود افراد ، غیر موجود افراد تک ، وہ بات پہنچا دیا کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِالْخَيْفِ ، - خَيْفِ مِنًى - : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَاوَوَعَاهَا وَبَلَّغَهَا مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنَّصِيحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَرِجَالُهَا مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” خیف “ میں ، یعنی منی کے خیف میں ، یہ بات ارشاد فرمائی : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے یاد اور محفوظ رکھے اور پھر وہ بات اس شخص تک پہنچا دے جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے بڑا علم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلے خالص ہونا ، مسلمان حکرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ، غیر موجود افراد تک محیط ہوتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابن اسحاق نے ، زہری سے روایت کیا ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا شخص ہے ، ایک اور سند کے ساتھ ، یہ صالح بن کیسان کے حوالے سے ، زہری سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابن اسحاق نے ، زہری سے روایت کیا ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا شخص ہے ، ایک اور سند کے ساتھ ، یہ صالح بن کیسان کے حوالے سے ، زہری سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ وَابِصَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَقَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَدِ اتُّهِمَ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا بِإِسْنَادٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا يَأْتِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر ، خطبے کے دوران ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” موجود ( فرد ) غیر موجود تک تبلیغ کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ، یہ روایت امام بزار نے ایک طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جس کی سند اس سے زیادہ بہتر ہے ، اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ، یہ روایت امام بزار نے ایک طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جس کی سند اس سے زیادہ بہتر ہے ، اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔
وَعَنْ وَابِصَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ لِلنَّاسِ بِالرِّقَّةِ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : إِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " . قَالُوا : هَذَا . قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ ؟ . " قَالُوا : هَذَا . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ " . فَادْنُوا نُبَلِّغْكُمْ كَمَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن ، وہ ” رقہ “ کی سب سے بڑی مسجد میں ، لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور یہ بات بیان کی : ” حجۃ الوداع کے موقع پر ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اے لوگو ! کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ، آپ نے فرمایا : اے لوگو ! کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ، تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، اس مہینے میں ، اس شہر میں حرمت ہے اور ( یہ اُس وقت تک قابل احترام رہیں گے ) جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے ، کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! گواہ ہو جا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم میں سے موجود ( افراد ) غیر موجود ( افراد ) تک تبلیغ کر دیں “ ۔ اُس کے بعد ، سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ نے سامعین سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ ! تاکہ ہم تمہیں اُسی طرح تبلیغ کر دیں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ بِحِمْصَ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ بَلَاغِ اللَّهِ لَكُمْ وَاحْتِجَاجِهِ عَلَيْكُمْ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَلَّغَ ، فَبَلِّغُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں : میں ابن ابوزکریا اور سلیمان بن حبیب ” حمص “ میں ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا : ” تمہاری یہ محفل ( یا نشست ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے تبلیغ ہے ، اور یہ تمہارے خلاف اُس کی حجت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی تھی ، تو تم بھی تبلیغ کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَيُحَدِّثُنَا حَدِيثًا كَثِيرًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا سَكَتَ قَالَ : أَعَقَلْتُمْ ؟ بَلِّغُوا كَمَا بُلِّغْتُمْ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ مذکور ہے : سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے ، تو وہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت سی احادیث بیان کرتے تھے ، جب وہ خاموش ہوتے ( یعنی جب وہ احادیث بیان کر لیتے تھے ) تو یہ فرماتے تھے : کیا تم نے سمجھ لیا ہے ؟ اب تم تبلیغ کرنا ! جس طرح تمہیں تبلیغ کی گئی ہے ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَسْمَعُ صِغَارُهُمْ مِنْ كِبَارِهِمْ ، وَفِي آخِرِهِمْ يَسْمَعُ كِبَارُهُمْ مِنْ صِغَارِهِمْ . قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : وَلِمَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لِأَنَّ الصِّغَارَ سَمِعُوا وَلَمْ يَسْمَعِ الْكِبَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس امت کے ابتدائی حصے میں کمسن لوگ ، بڑے لوگوں سے سماع کرتے ہیں ( یعنی علم حاصل کرتے ہیں ) اور اس امت کے آخری حصے میں ، بڑی عمر کے لوگ ، کمسن لوگوں سے سماع کریں گے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا : اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ انہوں نے جواب دیا : کیونکہ کمسن لوگوں نے سماع کیا ہو گا ، اور بڑی عمر کے لوگوں نے سماع نہیں کیا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔