مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِالْخَيْفِ ، - خَيْفِ مِنًى - : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَاوَوَعَاهَا وَبَلَّغَهَا مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنَّصِيحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَرِجَالُهَا مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” خیف “ میں ، یعنی منی کے خیف میں ، یہ بات ارشاد فرمائی : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے یاد اور محفوظ رکھے اور پھر وہ بات اس شخص تک پہنچا دے جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے بڑا علم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلے خالص ہونا ، مسلمان حکرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ، غیر موجود افراد تک محیط ہوتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابن اسحاق نے ، زہری سے روایت کیا ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا شخص ہے ، ایک اور سند کے ساتھ ، یہ صالح بن کیسان کے حوالے سے ، زہری سے منقول ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔