مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ جَنْدَرَةَ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ عِلْمٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ الْقَلْبُ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ ، وَمُنَاصَحَةُ الْوُلَاةِ ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ " . قَالَ : وَبَلَغَنِي أَنَّ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ أَسَرَتْهُ الرُّومُ ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يُنَادِيهِ مِنْ سُورِ عَسْقَلَانَ فِي وَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ : يَا فُلَانُ ، الصَّلَاةُ ، فَيَسْمَعُهُ فَيُجِيبُهُ ، وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ الْبَحْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ . ¤سیدنا ابوقرصافہ جندرہ بن خیثمہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ کر لے اور یاد رکھے ، بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ، اس شخص تک ( وہ بات ) منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ، تین چیزوں کے بارے میں دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا خالص ہونا ، حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور جماعت کے ساتھ رہنا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو رومیوں نے قید کر لیا ، تو سیدنا ابوقرصافحہ ہیں رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت ” عسقلان “ شہر کی فصیل کے پاس بلند آواز میں یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اُن کے بیٹے اُن کی آواز سنتے تھے اور انہیں جواب دیتے تھے ، حالانکہ ان دونوں کے درمیان سمندر کی چوڑائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے اُس کے راویوں میں سے کسی کا ذکر کرتے ہوئے ، کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔