مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ بَلَّغَهَا ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَرْبَرِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے اور پھر اُس کی تبلیغ کر دے ، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس تک تبلیغ کی گئی ہوتی ہے ، وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں ، اُس بات کو زیادہ بہتر طور پر محفوظ رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بربری ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔