کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ثقہ راویوں سے حدیث حاصل کرنا
حدیث نمبر: 599
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : يَا بَنِيَّ ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ فَاحْتَفِظُوا بِهَا : لَا تَقْبَلُوا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ ثِقَةٍ ، وَلَا تَدِينُوا وَلَوْ لَبِسْتُمُ الْعَبَاءَ ، وَلَا تَكْتُبُوا شِعْرًا تَشْغَلُوا بِهِ قُلُوبَكُمْ عَنِ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيُحْتَمَلُ فِي هَذَا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، تم انھیں یاد رکھنا ! اللہ کے رسول کی حدیث ، صرف کسی مستند شخص سے قبول کرنا ، اور تم قرض نہ لینا ، خواہ تمہیں پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں ، اور تم شعر نوٹ نہ کرنا ، ورنہ تمہارے دل ، قرآن سے ہٹ کے اُس ( شاعری ) میں مشغول ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اس میں احتمال موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 600
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ تَظْهَرَ فِيكُمْ شَيَاطِينُ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَوْثَقَهَا فِي الْبَحْرِ ، يُصَلُّونَ مَعَكُمْ فِي مَسَاجِدِكُمْ ، وَيَقْرَءُونَ مَعَكُمُ الْقُرْآنَ ، وَيُجَادِلُونَكُمْ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّهُمْ لَشَيَاطِينُ فِي صُورَةِ الْإِنْسَانِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ مُسْلِمٌ مَوْقُوفًا ، وَهَذَا مَرْفُوعٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ نَسَبَهُ ابْنُ مَعِينٍ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہارے درمیان وہ شیاطین ظاہر ہو جائیں گے ، جن کو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے سمندر میں قید کیا ہوا تھا وہ تم لوگوں کے ساتھ تمہاری مساجد میں نماز ادا کریں گے ، وہ تمہارے ساتھ قرآن پڑھیں گے ، اور وہ تمہارے ساتھ دین کے بارے میں بحث کریں گے ، انسانی شکل میں وہ شیاطین ہوں گے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام مسلم نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہاں یہ ” مرفوع “ ہے ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد واسطی ہے ، یحیی بن معین نے اُس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 601
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ قَالَ : " يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَنَسَبَهُ إِلَى الْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بعد والوں میں سے اس علم کو عادل لوگ حاصل کریں گے ، جو اس سے غلو کرنے والوں کی تعریف ، جاہل لوگوں کی تاویل اور باطل لوگوں کی اس کی طرف غلط نسبت کی نفی کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام أحمد بن حنبل نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی نسبت ( حدیث ) ایجاد کرنے کی طرف کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 143»
حدیث نمبر: 602
وَعَنِ الْمُقَنَّعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَدَقَةِ إِبِلِنَا فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ ، فَقُلْتُ : إِنَّ فِيهَا نَاقَتَيْنِ هَدِيَّةً لَكَ ، فَأَمَرَ بِعَزْلِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا وَخَاضَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَاعِثُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رَقِيقِ مِصْرَ ، أَوْ قَالَ : مُضَرَ - شَكَّ أَبُو غَسَّانَ - يُصَدِّقُهُمْ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنَّ لَنَا وَمَا عِنْدَ أَهْلِنَا مِنْ مَالٍ وَلَا صَدَّقْتُهُمْ هَاهُنَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ أَسْوَدُ قَدْ حَاذَى رَأْسُهُ بِرَأْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَطْوَلَ مِنْهُ ، فَلَّمَا دَنَوْتُ كَأَنَّهُ أَهْوَى إِلَيَّ ، فَكَفَّهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّ النَّاسَ خَاضُوا فِي كَذَا وَكَذَا ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيَّ " . قَالَ الْمُقَنَّعُ : فَلَمْ أُحَدِّثْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا حَدِيثًا نَطَقَ بِهِ كِتَابٌ أَوْ جَرَتْ بِهِ سُنَّةٌ ، يُكْذَبُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ ، فَكَيْفَ بَعْدَ مَوْتِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقنع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹوں کی زکوۃ کے ہمراہ حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بارے میں حکم دیا تو انہیں قبضہ میں لے لیا گیا ، میں نے گزارش کی : ان میں دو اونٹنیاں ایسی ہیں جو آپ کے لیے تحفے کے طور پر ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت تحفہ کو صدقے سے الگ کر دیا گیا ، میں کچھ دنوں تک وہاں ٹھہرا رہا ، اس دوران لوگ آپس میں یہ بات چیت کرتے رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مصر کے غلاموں ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : مضر کے غلاموں کی طرف بھیجنے لگے ہیں ، یہ شک ابوغسان نامی راوی کو ہے ، تاکہ وہ ان لوگوں سے زکوۃ وصول کر کے آئیں ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اور ہمارے علاقے کے لوگوں کے پاس جو بھی مال ہے ، میں نے اس کی زکوۃ یہاں ادا کر دی ہے ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اُس وقت اپنی اونٹنی پر موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سیاہ فام صاحب موجود تھے ( قد و قامت کے حوالے سے ) جن کا سر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے برابر تھا ، میں نے اُن سے زیادہ طویل القامت کوئی شخص نہیں دیکھا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے لگا ، تو وہ میری طرف بڑھے ( تاکہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آنے سے روک دیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا ، میں نے عرض کی : لوگ یہ کچھ سوچ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں لوگوں کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا ہوں کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کریں ۔ سیدنا مقنع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا ، جس کے بارے میں کتاب ( یعنی قرآن ) میں حکم موجود ہو ، یا جس کے حوالے سے سنت جاری ہو چکی ہو ، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی جا سکتی ہے ، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کیا عالم ہو گا ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون برجمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 300/20»
حدیث نمبر: 603
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْعَصَبِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کی ہلاکت ، عصبیت ، تقدیر کے انکار اور غیر مستند شخص سے روایت کی وجہ سے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن ہارون ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11142 اورده المؤلف فى كشف الاستار 191»
حدیث نمبر: 604
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ثَلَاثٍ : فِي الْقَدَرِيَّةِ ، وَالْعَصَبِيَّةِ ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبَتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ [ وَالصَّغِيرِ ] ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی ہلاکت تین چیزوں کے ذریعے ہو گی ، تقدیر کا انکار عصبیت اور غیر مستند شخص سے روایت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، سوید بن عبد العزیز کے ضعف پر اجماع ہونے کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3555 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 158/1»