حدیث نمبر: 584
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

عبید بن عمیر نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص ، وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے بڑا عالم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ میں نے کسی کو محمد بن نصر نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، جو معجم اوسط میں امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 49/17»