مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَمَشَّاهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اُس کا ساتھ دیا ہے ۔