حدیث نمبر: 591
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا ثُمَّ ذَهَبَ بِهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ [ مُؤْمِنٍ ] : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنُّصْحُ لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْأَمْرَ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : منی میں ، مسجد خیف میں ، ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ، جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، اور پھر اُسے اُس شخص تک پہنچا دے ، جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے بڑا عالم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، اُن لوگوں کے لیے خیرخواہی ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا حکمران بنایا ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ اُن کی دعا ، پیچھے موجود افراد تک محیط ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 591
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 9444»