حدیث نمبر: 583
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً ، سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَبَلَّغَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنَّصِيحَةُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ! جو میری یہ گفتگو سن کر اُس کی تبلیغ کر دے ، کیونکہ بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ بڑا عالم ہوتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنا ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ ان کی دعا اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کا مدار عبدالرحمن بن زبید نامی راوی پر ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ میں بیان کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف