حدیث نمبر: 585
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ كَلَامِي ثُمَّ لَمْ يَزِدْ فِيهِ ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى [ مَنْ هُوَ ] أَوْعَى مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأُولِي الْأَمْرِ ، وَالِاعْتِصَامُ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ : " رُبَّ حَامِلِ كَلِمَةٍ " بَدَلَ : " فِقْهٍ " . وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ ، رُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میرا کلام سنے اور اُس میں کوئی اضافہ نہ کرے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص اس بات کو اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ بہتر طور پر اس بات کو یاد رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں ، مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا ، اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، کیونکہ ان کی دعاء ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں لفظ ” حامل فقہ “ کی بجائے ” حامل کلمہ “ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع، اس کی سند میں عمرو بن واقد نامی راوی کذاب اور منکر الحدیث ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 82/20 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6781»