مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنْ وَابِصَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ لِلنَّاسِ بِالرِّقَّةِ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : إِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " . قَالُوا : هَذَا . قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ ؟ . " قَالُوا : هَذَا . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ ، هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ " . فَادْنُوا نُبَلِّغْكُمْ كَمَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن ، وہ ” رقہ “ کی سب سے بڑی مسجد میں ، لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور یہ بات بیان کی : ” حجۃ الوداع کے موقع پر ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اے لوگو ! کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ، آپ نے فرمایا : اے لوگو ! کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ، تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، اس مہینے میں ، اس شہر میں حرمت ہے اور ( یہ اُس وقت تک قابل احترام رہیں گے ) جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے ، کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! گواہ ہو جا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم میں سے موجود ( افراد ) غیر موجود ( افراد ) تک تبلیغ کر دیں “ ۔ اُس کے بعد ، سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ نے سامعین سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ ! تاکہ ہم تمہیں اُسی طرح تبلیغ کر دیں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔