مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي سَمَاعِ الْحَدِيثِ وَتَبْلِيغِهِ . باب: حدیث کا سماع اور اُس کی تبلیغ
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَقَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ وَجْهَ عَبْدٍ سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَمَلَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ . ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى الْخَيَّاطُ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے خطبہ کے دوران یہ بات بیان کی : مسجد خیف میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ، جو میری بات سن کر اسے سیکھ لے ، کیونکہ بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ، وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ، جو اُس سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ( یعنی اُس سے زیادہ علم رکھتا ہے ) تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ، اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ، جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خیاط ہے ، جو متروک الحدیث ہے ۔