کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرے یا اُس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکر کیا جائے اُس کا نبی اکرم ﷺ پر درود تحریر کرنا
حدیث نمبر: 577
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ فِي كِتَابٍ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَسْتَغْفِرُ لَهُ مَا دَامَ اسْمِي فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ الدَّارِسِيُّ ، كَذَّبَهُ الْأَزْدِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مجھ پر تحریری طور پر درود بھیجتا ہے ، تو فرشتے اُس وقت تک اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ، جب تک میرا نام اُس تحریر میں موجود رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبید دارسی ہے ، جسے ازدی اور دیگر حضرات نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع؛ بشر بن عبید الدارسی کے کذاب
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1835»
حدیث نمبر: 578
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَكَرَنِي فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُغْرِبُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میرا ذکر کرے ، اُسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازرق بن علی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 3989 ، 3669 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 102/3»
حدیث نمبر: 579
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے ، اُسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 580
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخُطِّئَ الصَّلَاةَ عَلَى خُطِّئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ أَوْ بِشْرٌ ، فَإِنْ كَانَ بَشِيرًا فَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَإِنْ كَانَ بِشْرًا فَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَالْأَحَادِيثُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَأْتِي فِي الْأَدْعِيَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جنت کے راستے سے بھٹکا دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن محمد کندی ہے ، یا شاید اس کا نام بشر ہے ، اگر یہ بشیر ہے ، تو پھر عبداللہ بن مبارک ، یحیی بن معین اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اگر یہ بشر ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے چل کر ، دعاؤں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2887»