کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
❮
❯
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229].
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ ”اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس (مال) میں کوئی گناہ نہیں جو عورت (اپنی جان چھڑانے کے لیے) فدیہ میں دے دے۔“ [سورة البقرة: 229]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ هَذِهِ؟ " فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ " فَقَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَذْكُرَ "، فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ " خُذْ مِنْهَا " فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو اندھیرے میں حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ کہنے لگی: ”حبیبہ بنت سہل“، پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ کہتی ہیں کہ ”میں اور میرے خاوند ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔“ جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے وہ ذکر کیا ہے جو اللہ نے چاہا کہ وہ ذکر کرے۔“ حبیبہ کہنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جو اس نے مجھے دیا ہے وہ تمام مال میرے پاس موجود ہے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثابت! مال اس سے لے لو“، تو انہوں نے لے لیا اور وہ اپنے اہل کے گھر بیٹھ گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14836
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ وَهِيَ تَشْكُو شَيْئًا بِبَدَنِهَا وَهِيَ تَقُولُ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ثَابِتُ خُذْ مِنْهَا " فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اندھیرے میں شکایت کی اور وہ اپنے بدن پر کچھ دکھا رہی تھیں۔ وہ کہنے لگیں: میں اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ اکٹھے نہیں رہ سکتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! اپنا مال لے لو۔“ چنانچہ انہوں نے اپنا مال لے لیا اور وہ اپنے گھر بیٹھ گئیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14837
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ بِبَغْدَادَ نا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، نا الثَّقَفِيُّ، نا خَالِدٌ، نا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " يَا ثَابِتُ، اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً " ⦗٥١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ جَمِيلٍ، وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ وہ کہتی ہیں: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثابت! اپنا باغ لے کر اس کو ایک طلاق دے دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14838
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقد قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ نا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، نا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14839
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ، غَيْرَ أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيِّ عَنْ قُرَادٍ أَبِي نُوحٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَرَدَّتْ عَلَيْهِ وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَعْنَاهُ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ جَمِيلَةَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی؛ کیونکہ اسلام میں ناشکری کو پسند نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ اس عورت نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے باغ واپس کرنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تفریق کروا دی۔
(ب) قراد ابی نوح سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت نے باغ واپس کر دیا تو آپ ﷺ نے اس کو جدا کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14840
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، نا هَمَّامٌ، نا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الْخُلْعَ فَقَالَ لَهَا: " مَا أَصْدَقَكِ؟ " قَالَتْ: حَدِيقَةً، قَالَ: " فَرُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی ﷺ کے پاس آئیں، وہ خلع کا ارادہ رکھتی تھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا حق مہر کیا تھا؟“ اس عورت نے کہا: باغ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا باغ واپس کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14841
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا وَلَا يَزْدَادُ ⦗٥١٣⦘ كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْصُولًا وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: میرے ماں، باپ آپ پر قربان! میں ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن میں بغض کی وجہ سے ان کو برداشت نہیں کر سکتی اور اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اسے اس کا باغ لوٹا دے گی؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے حکم دیا: ”جو مال دیا ہے وہ واپس لے لو، زیادہ نہیں لینا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14842
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو نَصْرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَطَاءٍ سَأَلْتُ سَعِيدًا عَنِ الرَّجُلِ يَخْلَعُ امْرَأَتَهُ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ، أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانًا تَعْنِي زَوْجَهَا ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ وَاللهِ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " خُذْ مَا أَعْطَيْتَهَا وَلَا تَزْدَدْ " وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَعِيدٌ: نا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ بِمِثْلِ مَا قَالَ قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا أَحْفَظُ " وَلَا تَزْدَدْ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابونصر عبدالوہاب بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جو شخص زیادہ مال کی واپسی کا تقاضا کر کے خلع کرنا چاہتا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ قتادہ رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میرا خاوند ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہے۔ میں اس پر عیب نہیں لگاتی، رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دیا ہے واپس لے لو لیکن زیادہ نہ لینا۔“ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ نے حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے قتادہ رحمہ اللہ کی روایت کی مثل بیان کیا، مگر انہوں نے کہا کہ «لَا تَزْدَدْ» ”زیادہ نہ لینا“ کے الفاظ مجھے یاد نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14843
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، قَالَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو اپنے خاوند کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: ہاں کچھ زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14844
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ⦗٥١٤⦘ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُبْغِضُ زَوْجِي وَأُحِبُّ فِرَاقَهُ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟ " قَالَ: وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ مِنْ مَالِكِ فَلَا وَلَكِنِ الْحَدِيقَةُ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَضَى بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ، فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”میں اپنے خاوند سے بغض رکھتی ہوں اور میں تفریق چاہتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہ باغ واپس کرتی ہو جو اس نے تمہیں حق مہر میں دیا تھا؟“
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کا حق مہر باغ تھا۔ وہ کہتی ہے: ”ہاں اور میں اس سے زیادہ بھی دیتی ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ تمہارا مال ہے، صرف باغ ہی واپس کر دو۔“ وہ کہتی ہے: ”ٹھیک ہے،“ تو آپ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا، جب اسے نبی ﷺ کے فیصلے کی خبر ملی تو اس نے کہا: ”مجھے نبی ﷺ کا فیصلہ منظور ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14845
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْخُذُ مِنَ الْمُخْتَلِعَةِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں نبی ﷺ سے خبر ملی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خلع کرنے والی عورت سے دیے ہوئے مال سے زیادہ نہ لیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14846
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى، ح، قَالَ: وَنا يَعْقُوبُ نا سَلَمَةُ نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ وَكِيعٌ: سَأَلْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَأَنْكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ فَإِنَّمَا الْحَدِيثُ بِاللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا خَاصَمَ امْرَأَتَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خلع کرنے والی عورت سے دیے ہوئے مال سے زیادہ لینا پسند نہ فرماتے تھے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع رحمہ اللہ نے کہا: میں نے ابن جریج رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا اور اس کا انکار کیا۔ شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: گویا انہوں نے صرف ان الفاظ کے ساتھ اس کا انکار کیا، کیونکہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ ہے جو ابن مبارک وغیرہ نے روایت کیے ہیں، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14847
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو زُرْعَةَ، نا عَمْرٌو النَّاقِدُ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَا تَقَدَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: باغ اور زیادہ بھی دے دیتی ہوں، تو نبی ﷺ نے زیادہ دینے سے منع فرما دیا۔
یہ روایت محفوظ نہیں ہے، اس سند کے ساتھ صحیح وہی ہے جو پہلے مرسل گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14848
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ، كَانَتْ عِنْدَهُ زَيْنَبُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً فَكَرِهَتْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَعْطَاكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلَا وَلَكِنْ حَدِيقَتَهُ " فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَهَا لَهُ وَخَلَّى سَبِيلَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں زینب بنت عبداللہ بن ابی بن سلول رضی اللہ عنہا تھی۔ اس کا حقِ مہر ایک باغ تھا، اس کو خاوند اچھا نہ لگا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو اس نے باغ تجھے دیا ہے کیا تو واپس کرتی ہے؟“ کہنے لگی: باغ اور کچھ زیادہ بھی دوں گی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”صرف باغ واپس کرو زیادہ نہیں“ تو کہتی ہے: ہاں۔ اس سے خاوند نے باغ لے لیا اور طلاق دلوا دی۔ جب سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کے فیصلے کا علم ہوا تو اسے قبول کر لیا۔
ابوزبیر رحمہ اللہ نے یہ روایت کئی لوگوں سے سنی ہے، اور یہ بھی مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14849
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْأَصَمُّ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَرَادَتْ أُخْتِي أَنْ تَخْتَلِعَ مِنْ زَوْجِهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ زَوْجِهَا فَذَكَرَتْ لَهُ ⦗٥١٥⦘ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ، فَقَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ: تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ فَقَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ، قَالَتْ: نَعَمْ وَأَزِيدُهُ، فَخَلَعَهَا فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَزَادَتْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ عَطِيَّةَ وَالْحَدِيثُ الْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بہن نے اپنے خاوند سے خلع کا ارادہ کیا تو اپنے خاوند کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آئی، نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے کہ وہ تجھے طلاق دے دے؟“ اس نے کہا: ہاں، زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ پھر فرمایا: ”کیا تو اس کا باغ واپس کرتی ہے کہ وہ تجھے طلاق دے دے؟“ اس عورت نے کہا: زیادہ بھی دوں گی۔ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا تو اس عورت نے کہا: ہاں، مزید بھی دوں گی۔ تو خاوند نے اس سے خلع کر لیا اور اس نے باغ اور کچھ زیادہ خاوند کو دے دیا۔
مرسل حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14850
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، نا هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْمُخْتَلِعَةِ " تَخْتَلِعُ بِمَا دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خلع کرنے والی تو بالوں کو باندھنے والے بند سے کم پر خلع کر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14851
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرٌ مَوْلَى سَمُرَةَ أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي إِمَارَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى بَيْتٍ كَثِيرِ الزَّبَلِ فَمَكَثَتْ فِيهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَقَالَ لَهَا: كَيْفَ رَأَيْتِ قَالَتْ: مَا وَجَدْتُ الرَّاحَةَ إِلَّا فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخْلَعُهَا وَلَوْ مِنْ قُرْطِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ کے غلام کثیر نے مجھے بیان کیا کہ ایک عورت نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اپنے خاوند کی نافرمانی کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بہت زیادہ گوبر والے گھر میں رکھنے کا حکم دیا، وہ وہاں تین دن ٹھہری، پھر انہوں نے اسے نکالا اور پوچھا: کیا حال رہا؟ تو کہنے لگی: مجھے سکون صرف انہی ایام میں ملا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس سے خلع کر لے، اگرچہ ایک بالی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14852
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ امْرَأَةً طَلَّقَهَا زَوْجُهَا عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " بَاعَكِ زَوْجُكِ طَلَاقًا بَيْعًا " وَأَجَازَهُ عُمَرُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن شہاب خولانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو خاوند نے ایک ہزار درہم کے عوض طلاق دے دی، معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ فرمانے لگے: تیرے خاوند نے طلاق کی بیع کر لی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز قرار دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14853
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا أَبُو هِلَالٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا أَرَادَ النِّسَاءُ الْخُلْعَ فَلَا تُكَفِّرُوهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب عورتیں اپنے خاوندوں سے خلع کریں تو ان کی ناقدری نہ کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14854
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح، وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی ایک لونڈی سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے خاوند سے اپنی ہر چیز کے بدلے خلع کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14855
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحٌ، عَنْ ⦗٥١٦⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: تَزَوَّجْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي فَشَقِيَ بِي وَشَقِيتُ بِهِ وَعَنِيَ بِي، وَعَنَيْتُ بِهِ وَإِنِّي اسْتَأْدَيْتُ عَلَيْهِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَظَلَمَنِي وَظَلَمْتُهُ وَكَثُرَ عَلَيَّ وَكَثُرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهَا انْفَلَتَتْ مِنِّي كَلِمَةُ أَنَا أَفْتَدِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خُذْ مِنْهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ مَتَاعِي كُلَّهُ إِلَّا ثِيَابِي وَفِرَاشِي وَأَنَّهُ قَالَ لِي: لَا أَرْضَى وَأَنَّهُ اسْتَأْدَانِي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الشَّرْطُ أَمْلَكُ قَالَ: أَجَلْ فَخُذْ مِنْهَا مَتَاعَهَا كُلَّهُ حَتَّى عِقَاصَهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَجَفْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْبَابَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے چچا زاد سے شادی کی، اس نے مجھے مشقت میں ڈالا اور میں نے اس کو مشقت میں ڈالا، اس نے مجھے تکلیف میں ڈالا اور میں نے اس کو تکلیف میں ڈالا، میں اس کی شکایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئی، اس نے مجھ پر زیادتی کی اور میں نے اس پر زیادتی کی، اس نے میرے ساتھ بہت سختی کی اور میں نے بھی اس کے ساتھ، اور میری زبان سے ایک کلمہ نکل گیا کہ میں اپنا تمام مال فدیہ میں دیتی ہوں۔ اس نے کہہ دیا: میں نے قبول کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لے لو۔ کہتی ہیں: میں نے اپنا تمام سامان اس کو دے دیا سوائے اپنے کپڑوں اور بستر کے۔ اس نے کہا: میں راضی نہیں ہوں۔ پھر وہ میری شکایت لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! شرط زیادہ لازم ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، اس کا تمام سامان لے لو حتیٰ کہ بال باندھنے کا بند بھی۔ کہتی ہیں: میں نے جا کر ہر چیز اس کو دے دی یہاں تک کہ میں نے اپنے اور اس کے درمیان دروازہ بند کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14856
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»