السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14841
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، نا هَمَّامٌ، نا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الْخُلْعَ فَقَالَ لَهَا: " مَا أَصْدَقَكِ؟ " قَالَتْ: حَدِيقَةً، قَالَ: " فَرُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی ﷺ کے پاس آئیں، وہ خلع کا ارادہ رکھتی تھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا حق مہر کیا تھا؟“ اس عورت نے کہا: باغ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا باغ واپس کر دو۔“