السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14855
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح، وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی ایک لونڈی سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے خاوند سے اپنی ہر چیز کے بدلے خلع کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار نہیں کیا۔