السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الوجه الذي تحل به الفدية باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14837
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ وَهِيَ تَشْكُو شَيْئًا بِبَدَنِهَا وَهِيَ تَقُولُ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ثَابِتُ خُذْ مِنْهَا " فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اندھیرے میں شکایت کی اور وہ اپنے بدن پر کچھ دکھا رہی تھیں۔ وہ کہنے لگیں: میں اور سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ اکٹھے نہیں رہ سکتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! اپنا مال لے لو۔“ چنانچہ انہوں نے اپنا مال لے لیا اور وہ اپنے گھر بیٹھ گئیں۔